خطبات محمود (جلد 1) — Page 167
۱۹۷ سے اس کی گائے کی رسی کھل گئی اس نے ایک برتن میں منہ ڈال دیا جس میں اس کا سر پھنس گیا۔اور وہ اسی طرح گھڑا سر پر اٹھا کر ادھر ادھر بھاگنے لگی۔یہ دیکھ کر کہ گائے کے جسم پر منہ کی بجائے کوئی بڑی سی چیز ہے وہ عورت ڈر گئی۔اس نے سمجھا شاید میری دعا قبول ہو گئی اور عزرائیل میری جان نکالنے کے لئے آیا ہے۔اس پر بے اختیار بول اُٹھی۔عزرائیل بیمار میں نہیں ہوں۔بلکہ وہ لیٹی ہے اُس کی جان نکال لے۔تو جان اتنی پیاری چیز ہے کہ اسے بچانے کے لئے انسان ہر ممکن تدبیر کرتا ہے اور علاج کراتے کراتے کنگال ہو جاتا ہے۔لیکن صحابہ کرام کو یہی جان خدا تعالیٰ کے لئے دینے کی اس قدر خواہش تھی کہ حضرت عمر دعائیں کرتے مجھے مدینہ میں شہادت نصیب ہو۔مجھے خیال آیا کرتا ہے حضرت عمرؓ کی یہ دعا کس قدر خطرناک تھی۔اس کے معنی یہ ہیں کہ دشمن مدینہ پر چڑھ آئے اور مدینہ کی گلیوں میں حضرت عمرہ کو شہید کر دے لیکن خدا تعالیٰ نے ان کی دعا کو اور رنگ میں قبول کر لیا اور وہ ایک مسلمان کہلانے والے کے ہاتھ سے ہی مدینہ میں شہید کر دیئے گئے۔بعض کے نزدیک وہ شخص مسلمان نہ تھا بہر حال وہ ایک غلام تھا جس سے خدا تعالیٰ نے حضرت عمر کو شہید کرا دیا۔وہ تو انسان خود جن چیزوں کو چاہتا ہے اور خواہش رکھتا ہے وہ اس کے لئے مصیبت نہیں ہوتیں۔حضرت خالد له بن ولید جب فوت ہونے لگے تو رو پڑے۔ایک دوست نے دریافت کیا۔آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمایا۔میرے جسم سے کپڑا اتار کر دیکھو سر سے لے کر پاؤں تک تلواروں کے نشان موجود ہیں۔میں نے میدان جنگ میں ہر جگہ شہادت کے لئے اپنے آپ کو ڈالا۔میرے پاؤں کے انگوٹھے سے لے کر تالو تک صد ہا نشانات تلوار کے موجود ہیں لیکن آج میں بستر پر پڑا مر رہا ہوں۔للہ تو وہی جان جو لوگوں کو اس قدر پیاری ہوتی ہے انہوں نے کس شوق سے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کی کوشش کی اور شہادت نہ ملنے پر روتے اور اظہار افسوس کرتے رہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو قربانی خوشی سے برداشت کی جائے اس میں انسان لذت محسوس کرتا ہے۔نبی کی جماعت کو قربانیاں اسی شوق سے کرنی چاہئیں جس شوق سے روزے رکھے جاتے ہیں۔روزہ میں بھوکا اور پیاسا رہنا پڑتا ہے مگر بچے روتے ہیں کہ ہم بھی روزہ رکھیں گے۔ویسے تو اگر کھانے کے معمولی اوقات سے دو گھنٹہ بھی کھانا ملنے میں دیر ہو جائے تو بچے اور ھم مچا دیتے ہیں لیکن روزہ نہ رکھنے دو تو پھر بھی روتے ہیں۔وہ چونکہ دیکھتے ہیں کہ ماں باپ روزہ رکھنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اس لئے وہ بھی اس فاقہ سے لو