خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 166

149 گھر بار چھوڑنے اور خدا کی خاطر وطن سے بے وطن ہونے کی یاد میں ہوتی ہے تو عید ہمیشہ قربانیوں کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔پس جو لوگ انبیاء کی تعلیم کے مطابق قربانیاں کرتے ہیں ان کے لئے تو عید ہوتی ہے۔لیکن جو ایسا نہیں کرتے ان کے لئے ہلاکت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا میں تکالیف سے کوئی بھی بچا ہوا نہیں ہوتا۔لیکن تکالیف بھی دو طرح کی ہوتی ہیں ایک وہ جو انسان خود اپنے لئے چن لیتا ہے اور دوسری وہ جن سے انسان بچنا چاہتا ہے لیکن بچ نہیں سکتا۔جو تکلیف تو انسان خود اپنے لئے تجویز کرتا ہے وہ تکلیف نہیں بلکہ س کے لئے لذت ہو جاتی ہے لیکن جو جبرا اس پر ڈال دی جاتی ہے وہ عذاب ہوتا ہے۔دیکھو ایک ماں اپنے بچے کے ساتھ کس قدر مصیبتیں جھیلتی ہے ، راتوں کو اس کے لئے جاگتی ہے، اسے کھلاتی پلاتی ہے اور اس کے لئے اتنا کام کرتی ہے کہ اگر اتنا ہی کام کسی قیدی سے لیا جائے تو میں سمجھتا ہوں ملک میں شور پڑ جائے کہ ظلم ہو رہا ہے ، مگر ایسا کام ہر گھر میں عورتیں کرتی ہیں، لیکن کوئی اسے ظلم یا تکلیف نہیں کہتا۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ یہ کام اپنے شوق سے کرتی ہیں اور اس مصیبت کو آپ اپنے پر ڈالتی ہیں اور میرا خیال ہے اگر کسی عورت سے کہا جائے تم کیوں اس قدر تکلیف اٹھاتی ہو اس بچہ کو پھینک دو اور آرام کرو تو وہ گالیاں دینے لگ جائے کیونکہ اس مشکل کو وہ راحت سمجھتی ہے۔اسی طرح طالب علم جس قدر رات دن محنت کرتا ہے میں سمجھتا ہوں اگر دوسرے تنخواہ دار لوگوں سے اس قدر کام لیا جائے تو وہ چلا اٹھیں۔مگر دیکھو طالب علم کی کیا چھوٹی سی جان ہوتی ہے لیکن وہ اس خیال سے کہ میں عزت پا جاؤں نہایت شوق سے تعلیم کی محنت کو اپنے اوپر برداشت کرتا ہے۔تو جو مشکل انسان خود اپنے پر ڈالے اسے وہ مصیبت نہیں بلکہ راحت سمجھتا ہے لیکن جو مصیبت اس پر ڈال دی جاتی ہے وہ فی الحقیقت اس کے لئے مصیبت ہوتی ہے۔انبیاء اور ان کے بچے متبعین کے راستہ میں جو مشکلات ہوتی ہیں ان میں سے اکثر ایسے ہوتی ہیں جنہیں وہ خود مانگتے ہیں اور ان کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔حضرت عمر کے متعلق لکھا ہے۔آپ ہمیشہ دعا کرتے تھے کہ مجھے موت مدینہ میں آئے اور شہادت کی موت آئے۔۸ دیکھو موت کس قدر بھیانک چیز ہے۔موت کے وقت عزیز سے عزیز بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔کہتے ہیں کسی عورت کی بیٹی بیمار ہو گئی۔وہ دعائیں کرتی خدایا میری بیٹی بچ جائے اور اس کی جگہ میں مرجاؤں۔ایک شب اتفاق