خطبات محمود (جلد 1) — Page 135
۱۳۵ دوسرا سبق ہمیں عید سے یہ ملتا ہے کہ کوئی عید بغیر قربانی کے نہیں حاصل ہو سکتی۔اگر ہم علاوہ اس وجہ کے جو اوپر بیان کی گئی ہے کہ ہم خوش ہونا چاہتے ہیں یہ دیکھیں کہ خدا نے عید کیوں مقرر کی ہے؟ تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب ہم خدا تعالٰی کے حکم کے ماتحت کھانا پینا چھوڑتے ہیں سولہ تو اس کے بعد عید میتر آتی ہے گویا ظاہری عید نفس کی طرف سے آتی ہے اور اصل عید خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور وہ قربانیوں کے بعد آتی ہے۔پس اگر تم حقیقی عید دیکھنا چاہتے ہو تو اس کے لئے ایک ہی رستہ ہے کہ کچی قربانیاں کرو۔خدا تعالی کے دین کی خدمت اس کے کلمہ کے اعلاء کے لئے ، اس کی طرف سے جو صداقت آئی ہے اس کے پھیلانے کے لئے اپنی جان اپنے مال اپنے اوقات اپنے علوم اپنے خیالات اپنی اُمنگوں اپنے رشتہ داروں ، اپنے قریبوں ، اپنے نفوس کو قربان کرنا چاہئے کیونکہ بغیر قربانی کے کوئی عید نہیں۔اور جتنی بڑی قربانی ہو اتنی ہی بڑی عید ہوتی ہے۔دیکھو جو لڑکا پانچ سال قربانی کرتا ہے اس کے لئے پرائمری کی عید ہوتی ہے اور جو دس سال قربانی کرتا ہے اس کے لئے انٹرنس کی اور جو چودہ سال قربانی کرتا ہے اس کے لئے بی۔اے کی عید ہوتی ہے۔پس جتنی بڑی قربانی ہو اتنی ہی بڑی عید ہوتی ہے۔ہمیں بھی چاہئے کہ اس بڑی عید کے لئے پوری تیاری کریں۔اپنے مال ، اپنے نفوس غرض اپنی ہر ایک چیز کو خدا ہی کی سمجھیں اور سمجھیں کیا پہلے ہی جو کچھ ہے خدا کا ہے۔ہم جب یہ کہیں گے کہ ہمارا سب کچھ خدا کے لئے ہے تو یہ صرف صداقت کا اقرار ہو گا کوئی نئی قربانی نہ ہوگی بلکہ ایک جھوٹ کو چھوڑنا ہوگا کیونکہ جب ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ مال ہمارا ہے تو وہ ہمارا نہ تھا بلکہ خدا ہی کا تھا کیونکہ اسی کی طرف سے ملا تھا۔مگر ہم احسان فراموش تھے جو دینے والے کو بھول گئے تھے اور جب یہ کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ خدا ہی کا ہے تو اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اس نے دیا ہے اور یہ کوئی قربانی نہیں بلکہ جھوٹ کو چھوڑ کر سچ کو اختیار کرنا ہے۔پس میں جہاں اپنی جماعت کو اس بڑی عید کی طرف توجہ دلاتا ہوں وہاں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس کے لئے بڑی بڑی قربانیاں بھی کرنی چاہئیں۔مجھے بڑا تعجب آتا ہے جب میں سنتا ہوں کہ جماعت پر بوجھ بہت بڑھ گیا ہے بڑی قربانیاں ہو گئی ہیں کیونکہ جو کچھ ہونا چاہئے تھا میرے نزدیک اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہوا۔دیکھو اگر ایک کمزور اور نحیف آدمی کو اٹھا کر چارپائی پر بھی بٹھایا جائے گا تو وہ کہے گا میں تھک گیا ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ اس نے کوئی بڑا کام کیا ہے۔اسی طرح جب کہا جاتا ہے کہ بڑی قربانیاں ہو گئی ہیں تو میں یہ کہنے