خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 134

کہہ دیتے ہیں اس میں بھی کوئی حکمت اور فائدہ ہے اسی طرح اگر ہم اپنے لئے حقیقی عید پیدا کر لیں اور ہر تکلیف اور ہر مصیبت جو آئے اس کے متعلق کہیں۔ہر بلا کیں قوم را حق داده است زیر اں گنج کرم بنهاده است الله تو کوئی مصیبت مصیبت نہیں رہ سکتی۔پس میں آج اپنے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جس طرح میں نے کل کہا تھا کہ ہم جب چاہیں رمضان کا آخری عشرہ اور لیلۃ القدر بنا سکتے ہیں۔لالہ اسی طرح میں آج کہتا ہوں کہ عید بنانا ہمارے اختیار میں ہے جب ہم چاہیں عید بنا سکتے ہیں کیونکہ عید ہمارے قلب میں پیدا ہوتی ہے اور اگر ہم فیصلہ کرلیں کہ ہر روز عید ہی رکھیں گے تو کوئی طاقت نہیں جو ہمارے اس فیصلہ کو مٹا سکے کیونکہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عید دی گئی ہے اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی چیز میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکتی۔پس جب کہ ہم نے خدا تعالٰی کے مامور اور مُرسل کو قبول کیا ہے اور جب کہ اس کے نبی کی بیعت کی ہے اور اس کے اتباع میں داخل ہوئے ہیں اور جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی معرفت ہمیں عظیم الشان کامیابیاں حاصل ہو چکی ہیں۔تو پھر کوئی طاقت نہیں جو ہمیں پیس سکے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے دل غمگین ہو سکیں۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ آئندہ مشکلات نہیں ہوں گی۔مشکلات ہوں گی اور اس سے زیادہ ہوں گی جتنی اب تک ہو چکی ہیں اور جتنی اب تک کی قربانیاں کی گئی ہیں اس سے بہت زیادہ آئندہ کرنی پڑیں گی لیکن جس طرح باوجود اس کے کہ عید کے دن روپیہ خرچ کرنا عید کی خوشی کو زائل نہیں کر دیتا اسی طرح کوئی وجہ نہیں کہ غم اور مشکلات اور تکالیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کو ہمارے لئے عید کا زمانہ نہ رہنے دیں۔اگر ہم عید کے طور پر اس زمانہ کو منانا چاہیں تو کوئی نہیں جو ہمیں اس سے روک سکے۔پس میں دوستوں کو کہتا ہوں کہ اس عید کے منانے کے لئے اپنے دل میں فیصلہ کر لو اور جب تم یہ فیصلہ کر لو گے کہ ہم مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کو عید کی طرح منائیں گے تو پھر تم دیکھو گے کہ آج جو مشکلات تمہیں گھبرا دیتی ہیں اس ارادہ کے بعد نہیں گھبرائیں گی اور وہ فکر اور غم جو اب تمہیں ڈراتے ہیں وہ اس ارادہ کے بعد نہیں ڈرائیں گے اور وہ مشکلات جو پہاڑوں کی مانند نظر آتی ہیں اس ارادہ کے بعد تنکا کے برابر بھی حقیقت نہ رکھیں گی۔