خطبات محمود (جلد 1) — Page 136
کو تو تیار ہوں کہ یہ کہنے والے تھک گئے ہیں مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے کوئی بڑا کام بھی کیا ہے۔اور انہیں تھکنے کا حق بھی تھا بے شک وہ تھکان محسوس کرتے ہیں مگر بوجہ اپنی کمزوری اور کم ہمتی کے نہ کہ بوجہ کام کے۔اور اس وجہ سے تھکنے والوں کو کام لینے والا چھوڑ نہیں سکتا۔بیمار کا یہ کام نہیں کہ اپنی کمزوری کو پیش کر کے کام کرنے سے جی چرائے بلکہ اس کا کام ہے کہ بیماری کا علاج کرائے۔پس یہ ایک وسوسہ ہے جو بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو گیا ہے کہ انہوں نے قربانی کی ہے۔ہرگز انہوں نے کوئی ایسی قربانی نہیں کی جسے قربانی کہا جاسکے۔اگر تم حقیقی عید حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے لئے ایسی قربانیاں کرو جن کی نظیر پہلے زمانوں میں نہ مل سکتی ہو حتی کہ صحابہ میں بھی نہ ملتی ہو۔ہے؟ کیونکہ اس زمانہ میں جو کام تمہارے سپرد کیا گیا ہے وہ اس زمانہ کے کام سے بہت بڑا ہے۔تمہارا کام شیطان کو کچلنا ہے اور ایسے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالٰی نے مبعوث کیا ہے جب کہ تمام دنیا کے لوگوں کے دلوں پر شیطان نے قبضہ کیا ہوا ہے۔پھر تم کمزور اور مفتوح ہو اور جن لوگوں کے دلوں پر تم نے قبضہ کرنا ہے وہ فاتح اور طاقتور ہیں۔اس حالت میں شیطان کو مٹانے کا کام کسی نبی کی جماعت کے سپرد نہیں کیا گیا۔رسول کریم ملی امید لالی کے لئے یہ کام مقرر تھا مگر آپ کی دوسری بعثت میں یہ کام ہو نا تھا۔۴۔سو یہ کام ہو گا تو آپ" کی ہی قوت قدسیہ کے ذریعہ مگر پہلے نہیں ہوا۔پہلے ظہور کے وقت آپ کے سپرد یہ کام نہ کیا گیا تھا جو آب کیا گیا ہے۔پس اس کام کے لئے جس قربانی کی ضرورت ہے وہ اپنی مثال پہلے زمانہ میں نہیں رکھتی۔مگر ہماری قربانیاں ابھی حضرت مسیح کے زمانہ کی قربانیوں جتنی بھی حقیقت نہیں رکھتیں۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے نفوس کو اس قربانی کے لئے تیار کرو جس کی نظیر پہلے نہیں مل سکتی اور جس کے بغیر حقیقی عید نہیں حاصل ہو سکتی۔خدا تعالیٰ ہمارے لئے اپنے فضل سے دونوں عیدیں دکھائے۔وہ عید بھی جو اپنے نفسوں سے پیدا ہوتی ہے اور وہ بھی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔اس کے ساتھ ہی میں اپنے دوستوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے ۱۵ مگر کوئی اشاعت اس وقت تک فائدہ نہیں دے سکتی جب تک اسے قبول کرنے کے لئے قلوب تیار نہ ہوں۔مگر مجھے افسوس ہے کہ بعض دوستوں کا خیال ہے اشاعت کے معنی یہ ہیں کہ لیکچر دیئے جائیں۔حالانکہ لیکچر دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ج