خطبات محمود (جلد 19) — Page 89
خطبات محمود ۸۹ سال ۱۹۳۸ء اور اس کے زائد انعام حاصل کر لیتا ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ شخص جو اخلاص سے اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے مگر سچائی ابھی اس تک نہیں پہنچی یا پہنچ تو گئی ہے مگر ابھی وہ اس کو کی پورے طور پر سمجھ نہیں سکا، ایسا انسان خدا تعالیٰ کے فضلوں سے محروم نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ سے محبت کر رہا ہوتا ہے اور اس سے تعلق جوڑنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔بے شک وہ ان فوائد سے محروم رہ جائے گا جو خدائی قرب سے ایک انسان کو حاصل ہو سکتے ہیں مگر یہ نہیں ہے ہوگا کہ خدا تعالیٰ اس پر اپنا غضب نازل کرے اور اس کی تباہی کے احکام نازل کرے۔ایسے ہی واقعہ کی مثال میں نے کئی دفعہ سنائی ہے۔مثنوی رومی والوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ کسی جنگل میں سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک گڈریا بیٹھا ہے اور عالم بے خودی میں اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ اے اللہ ! اگر تو مجھے مل جائے تو میں تیرے پیروں میں سے کانٹے نکالا کروں ، تیری گدڑی کی میں پیوند لگاؤں ، تیری جوئیں نکالوں، تجھے مل مل کر نہلا ؤں ، تو تھک کر سو جائے تو میں تیرے پیر دباؤں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ باتیں سنیں تو انہوں نے اپنا عصا اُٹھایا اور اُسے زور سے مار کر کہا بے حیا ! تجھے شرم نہیں آتی تو خدا کی ہتک کر رہا ہے۔وہ ڈر کے مارے بھا گا۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو الہام ہوا کہ اے موسیٰ ! تو نے اپنے اس فعل سے ہمیں تکلیف دی ہے۔یہ بندہ جو کچھ کہہ رہا تھا یہ کسی بغض اور دشمنی کی وجہ سے تو نہیں کہہ رہا تھا۔یہ ہمارا ایک نادان بندہ تھا جس تک وہ علم نہیں پہنچا جو تجھ تک پہنچا ہے مگر اس کے دل میں محبت تھی اور وہ اپنے رنگ میں ہم سے اپنی محبت اور عشق کا اظہار کر رہا تھا، تمہارا کیا حق تھا کہ تم اسے سرزنش کرتے۔تمہارا زیادہ سے زیادہ یہ کام تھا کہ تم اسے سمجھاتے مگر مارنا اور غصے ہونا یہ تمہارا کام نہیں تھا۔اس کی کہانی میں بھی یہی بات بیان کی گئی ہے کہ وہ شخص جس کے تعلقات خدا تعالیٰ سے محبت پر مبنی ہوں ، چاہے وہ غلط رنگ میں ہی اس سے محبت کا اظہار کر رہا ہو ، وہ اس کی ناراضگی کا مورد نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ اپنے رنگ میں ایک نیک کام کر رہا ہوتا ہے اور اس کی وہی ادا خدا تعالیٰ کو پیاری معلوم ہوتی ہے۔پس ایسا شخص اگر کوئی اور جرائم نہیں کر رہا تو یقیناً وہ اللہ تعالیٰ کا فضل جذب کرے گا اور آخر ایک دن ہدایت پا جائے گا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ