خطبات محمود (جلد 19) — Page 88
خطبات محمود ۸۸ سال ۱۹۳۸ء پیروں کے پاس تعویذ لینے جاتے ہیں اور ایسے پیر اور عامل کہلانے والے موجود ہیں جو باوجود اپنی بد عملی کے عامل کہلاتے اور کچھ روپے لے کر ایسے تعویذ لکھ کر دے دیتے ہین جن کے نتیجہ میں کہا جاتا ہے کہ کسی شریف کی بہو بیٹی اس بدمعاش کے قابو میں آجائے گی۔گویا وہ دلالی کا کی ذلیل ترین پیشہ نَعُوذُ باللہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔یہ قومی تباہی کی ایک علامت ہے۔لیکن کوئی ترقی یافتہ اور سمجھدار قوم جو ترقی کے راستہ پر قدم مارنے والی ہو اس قسم کی بیوقوفیاں اور حماقتیں نہیں کریگی۔مسلمانوں کی طرح ہندوؤں میں بھی یہ باتیں پائی جاتی ہیں اور ایک قلیل حد تک عیسائیوں میں بھی یہ باتیں پائی جاتی ہیں اور یوں تو ہر قوم میں ایسے آدمی پائے جاتے ہیں جو دوسری قوموں کے بزرگوں اور عاملوں یعنی بزرگ اور عامل کہلانے والوں کے پاس جاتے اور ان سے ایسے تعویذ اور ایسی تحریریں لکھواتے ہیں جن سے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ناجائز مطالب پورے ہو جائیں گے۔ان خیالات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ واقعہ میں ایسے تعویذوں میں کوئی کچ اثر ہے بلکہ یہ خیالات اس طریق کی برائی کو اور بھی واضح کر دیتے ہیں۔اگر اس قسم کے جرائم دنیا میں نہ ہوتے تو شاید کسی کیلئے یہ مجھنا مشکل ہو جاتا کہ کیونکر کوئی شخص غلط طریق پر چلتے ہوئے یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں کامیاب ہو جاؤں گا۔مگر ان مثالوں سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعض کی لوگ غلط طریق پر چلتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ وہ کامیاب ہو جائیں گے بلکہ ان مثالوں سے یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ بعض لوگ شرمناک جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے یہ امید رکھتے ہیں کہ عُوذُ بالله خدا ان کی مدد کرے گا اور وہ ڈا کہ یا چوری یا کسی ناجائز تعلق میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن مومن ایسا کبھی خیال نہیں کر سکتا۔ہمیں قرآن کریم سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہر وہ - انسان جو اپنے جرائم کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو ناراض نہیں کر دیتا ، اللہ تعالیٰ کا پیارا اور اس کی محبت کا نقطہ ہوتا ہے۔مجرم بے شک اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دیتا ہے اور الہی تائید کو اپنے اوپر نازل ہونے سے ایک حد تک روک بھی دیتا ہے۔مگر جو مجرم نہیں خواہ وہ بچے دین میں شامل ہو یا نہ ہو، وہ حقیقی مذہب کو ماننے والا ہو یا نہ ہو، محض شرافتِ نفس کی وجہ سے خدائی فضل کو ایک حد تک جذب کر رہا ہوتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بچے دین کو ماننے والا اللہ تعالیٰ کی زائد برکاتی