خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 90

خطبات محمود ۹۰ سال ۱۹۳۸ء وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ، کہ وہ لوگ جو ہمیں پانے کی کوشش کرتے ہیں اور جن کی نیت یہ ہوتی ہے کہ ہم تک پہنچ جائیں ہمیں اپنی ذات ہی کی قسم ہے کہ ہم اپنے قُرب کا راستہ ضرور دکھا دیتے ہیں۔یہ کتنی محبت اور شفقت کا کلام ہے اور کتنا یقینی قطعی اور حتمی وعدہ ہے۔والذینَ جَاهَدُوا فینا۔بندہ کا کام صرف کوشش کرنا ہے۔ورنہ اپنے طور پر وہ کامل علم اسے کہاں حاصل ہو سکتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ ہمیں پالے۔اس کا کام یہی ہے کہ کوشش کرے۔پس دالّذینَ جَاهَدُوا فینا جو لوگ کوشش کرتے ہیں وہ اپنی ذمہ داری کو ادا کر دیتے ہیں۔آگے یہ ہمارا کام ہوتا ہے کہ ہم انہیں صحیح علم دیں۔چنانچہ فرماتا ہے جب بندے نے اپنا کام کر لیا تو کس طرح ممکن ہے کہ ہم جو قادر ہیں جو کامل ہیں اور جو ہر نقص اور عیب سے منزہ ہیں ، اپنے فرض کو ادا نہ کریں۔سو کنهدِ يَنْهُمْ سُبُلَنَا ہم اپنی ذات ہی کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ضرور ہم انہیں ان راستوں سے چلا کر لے آئیں گے جو ہم تک پہنچنے والے کی ہوں۔کتنا شاندار وعدہ ہے اور انسانی قلب کی نیکی کا کتنا بڑا اعتراف ہے جو انسان کو پیدا کرنے کی والے رب نے کیا۔تو انسان کی طرف سے اگر صحیح جدو جہد ہو تو بھی اگر نیک نیتی سے غلط رنگ میں جد و جہد ہو تو بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر لیتا ہے مگر جب صحیح جد و جہد نہ ہو اور انسان شرارت اور گستاخی کر رہا ہو تو وہ کسی صورت میں اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب نہیں کر سکتا۔خواہ وہ بچے مذہب میں شامل ہو یا جھوٹے مذہب میں۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بچے مذہب میں ہوتے ہوئے ان راستوں کو اختیار نہیں کرتا جو اللہ تعالیٰ کے قرب تک پہنچانے والے ہوں تو وہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے غضب کو زیادہ بھڑکا تا ہے کیونکہ اس نے علم رکھتے ہوئے نافرمانی کی اور جو غلط راستے پر تھا اس نے بے علمی میں نافرمانی کی اور اس میں کیا شبہ ہے کہ جو شخص بے علمی میں نافرمانی کرے وہ کم مجرم ہے بہ نسبت اس شخص کے جو علم کے باوجود نافرمانی کرتا ہے۔اسی نکتہ کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مومنوں کو اس موقع پر توجہ دلائی ہے۔جہاں حج کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہوا کرو اور جس کی کام کو کرنا چاہو کرو اس کیلئے وہ طریق استعمال کرو جو خدا تعالیٰ نے اس کام کیلئے مقرر کئے ہیں۔مثلاً گھر میں داخل ہونے کا سہل اور آسان طریق یہ ہے کہ دیواروں میں جو منافذ یعنی درواز۔