خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 828 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 828

خطبات محمود ۸۲۸ سال ۱۹۳۸ء اس تحریک میں حصہ لینے والوں کی تعداد کتنی ہے تو انہوں نے کہا کہ میں زبانی نہیں بتا سکتا دیکھ کر بتاؤں گا۔میں نے کہا اندازاً آپ بتائیں کہ کس قدر لوگ ہونگے۔انہوں نے اس وقت بتلایا کہ شاید سات ہزار کے قریب ہیں۔ان کے اس جواب سے میرے ذہن میں جو یہ خیال تھا کہ شاید تحریک جدید میں حصہ لینے والے پانچ ہزار ہوں اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ کشف اسی کے متعلق ہو جاتا رہا اور گو ایک حصہ نادہندوں کا بھی ہوتا ہے اور ایک حصہ ایسے لوگوں کا بھی ہوتا ہے جنہیں جس قد رحصہ لینا چاہئے اس قدر وہ حصہ نہیں لیتے اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے سپاہیوں میں شامل نہیں کرتا مگر چونکہ انہوں نے جو ظنی تخمینہ بتایا وہ بہت زیادہ تھا اس لئے یہ خیال میرے ذہن سے اتر گیا۔مگر اب قاضی صاحب کے مضمون سے جو اعداد و شمار سے مرتب کیا گیا ہے مجھے وہ پرانا خیال یاد آ گیا اور میں سمجھتا ہوں کہ در حقیقت انہی لوگوں کے متعلق یہ کشف ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کئی سال سے میرا یہ خیال ہے کہ یہی وہ فوج ہے جس کے ملنے کی حضرت مسیح موعود کو خبر دی گئی تھی اور اسی فوج کے ذریعہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اسلام کی فتح کے لئے ایک مستقل اور پائیدار بنیاد قائم کر دے اور یہ فوج اپنا ایک ایسا نشان چھوڑ جائے جس کے ذریعہ ہمیشہ دنیا میں اسلام کی تبلیغ ہوتی رہے۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ ادھر الفضل میں یہ مضمون شائع ہوا اور ادھر چند دن پہلے میں ” یہ سوچ رہا تھا کہ تحریک جدید میں آخر تک قربانی کرنے والوں کو آئندہ نسلوں کے لئے بطور یادگار بنانے کیلئے کوئی تجویز کروں۔جب یہ کشف میرے سامنے آیا تو اس نے میرے اس خیال کو اور زیادہ مضبوط کر دیا اور میں نے چاہا کہ وہ لوگ جو اس تحریک میں آخر تک استقلال کے ساتھ حصہ لیں ان کے ناموں کو محفوظ رکھنے کیلئے اور اس غرض کے لئے کہ آئندہ آنے والی نسلیں ان کے لئے دعائیں کرتی رہیں۔کوئی یادگار قائم کروں۔لوگ اولاد کے لئے کتنا تڑپتے ہیں محض اس لئے کہ دنیا میں ان کا نام قائم رہے۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ وہ جنہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کے احیاء اور اس کے جھنڈے کو بلند رکھنے کیلئے اس تحریک میں حصہ لیا ہے ان کے نام آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ رکھنے کی خاطر کیوں نہ کوئی تجویز کی جائے۔چنانچہ اس کیلئے میں نے ایک نہایت موزوں تجویز سوچی ہے جسے اپنے وقت پر ظاہر کیا جائے گا۔غرض اس مضمون کو