خطبات محمود (جلد 19) — Page 829
خطبات محمود ۸۲۹ سال ۱۹۳۸ء پڑھنے کے بعد میرے دل میں یہ خیال آیا کہ جسے خدا نے اپنا لشکر قرار دیا ہے اور جس کے ذریعہ اسلام کی فتح کا سامان دنیا میں ہونے والا ہے اس جماعت کو کون مٹا سکتا ہے۔یقیناً کوئی نہیں جو اسے مٹا سکے لیکن ہمارا بھی فرض ہے کہ ان پانچ ہزار سپاہیوں کی کوئی مستقل یادگار قائم کریں کیونکہ وہ سب لوگ جو اس جہاد کبیر میں آخر تک ثابت قدم رہیں گے ان کا حق ہے کہ اگلی نسلوں میں ان کا نام عزت سے لیا جائے اور ان کا حق ہے کہ ان کے لئے دعاؤں کا سلسلہ جاری رہے اور اس کیلئے جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ایک نہایت موزوں تجویز میں نے سوچ لی ہے۔پس میں آج اس تمہید کے ساتھ تحریک جدید کے سال پنجم کے چندہ کا اعلان کرتا ہوں۔دوستوں کو چاہئے کہ اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ بننے کی کوشش کریں۔میں نے تحریک جدید کے پانچویں سال کے چندہ کی شرائط بیان کر دی ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ قانون یہی ہے کہ دس فیصدی پچھلے سال سے کم چندہ دیا جا سکتا ہے مگر ایک سچے مومن کو اس اجازت سے اسی صورت میں فائدہ اٹھانا چاہئے جبکہ وہ واقع میں مجبور اور معذور ہو اور اگر وہ واقع میں معذور اور مجبور نہیں یا مجبور اور معذور تو ہے مگر اس کا ایمان اور اخلاص اسے پیچھے ہٹنے نہیں دیتا تو میں اسے کہوں گا کہ تم کوشش کرو کہ اپنی پہلی جگہ پر کھڑے رہو بلکہ اگر ہو سکے تو آگے بڑھنے کی کوشش کر و۔بے شک اس سال چندوں کی بھر مار ہے مگر جو کام ہمارے سامنے ہے وہ بھی بہت بڑا ہے اور وہ اشاعت اسلام کے لئے مستقل جائداد کا پیدا کرنا ہے۔جو لوگ اس راستہ میں مشکلات کی پرواہ نہیں کریں گے اور مصیبتوں پر ثابت قدم رہیں گے وہی لوگ ہیں جو اپنے عمل سے اس بات کو ثابت کر دیں گے کہ وہ آئندہ نسلوں میں عزت کے ساتھ یاد کئے جانے کے مستحق ہیں مجبوریاں سب کیلئے ہوتی ہیں۔اگر ایک شخص پیچھے ہٹے اور دوسرا انہی حالات میں سے گزرتے ہوئے ثابت کر دے کہ اس نے قدم پیچھے نہیں ہٹایا تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم مجبور ہیں انہوں نے غلط کہا تھا کیونکہ انہی حالات میں دوسروں نے قربانی کی اور وہ کامیاب تج ہوئے۔اس طرح ہر وہ شخص جو نیا احمدی ہوا ہے اس کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے اس پر بہت بڑا افضل کیا ہے کہ اپنے بچے دین کا راستہ اسے دکھا دیا یا بالفاظ دیگر اس کا خدا اسے مل گیا۔