خطبات محمود (جلد 19) — Page 827
خطبات محمود ۸۲۷ سال ۱۹۳۸ ایک پرانا کشف ہے جو حضرت مسیح موعود نے دیکھا۔آپ فرماتے ہیں کہ:- ایک دفعہ کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں۔ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب۔پہلے میں نے اس شخص کو جو زمین پر تھا مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا اور وہ چپ رہا۔پھر میں نے اس دوسرے کی طرف رخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا اور اسے میں نے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔اس نے کہا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپا ہی دیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اس کا یہ جواب سن کر کشفی حالت میں ہی میں نے اپنے دل میں کہا کہ :- اگر چہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں اگر خدا تعالیٰ چاہے تو تھوڑے بیھوں پر فتح پاسکتے ہیں۔اُس وقت میں نے کشفی حالت میں ہی یہ آیت پڑھی کہ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ؟ قاضی صاحب نے لکھا ہے کہ اس رؤیا کے متعلق میرے دل میں یہ خیال گزرا کہ یہ تحریک جدید میں قربانیاں کرنے والوں کے ذریعہ پورا ہو رہا ہے۔چنانچہ میں نے منشی برکت علی صاحب کی فنانشل سیکرٹری سے پوچھا کہ تحریک جدید کے چندہ میں حصہ لینے والوں کی کس قدر تعداد ہے تو انہوں نے بتایا کہ پانچ ہزار چار سو بائیں۔چونکہ ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ نا د ہند ہوتے ہیں اس لئے اگر ان کو نکال دیا جائے تو پانچ ہزا ر ہی تعدا د بنتی ہے۔علاوہ از میں کسور بالعموم تعداد میں شمار نہیں کئے جاتے پس پانچ ہزار چار سو در اصل پانچ ہزا ر ہی ہیں۔لیکن اگر کسور کو بھی شامل کر لیا جائے تو میں نے بتایا ہے کہ کچھ نہ کچھ ایسے لوگوں کی تعداد بھی ہوتی ہے جو وعدہ تو کرتے ہیں مگر اسے پورا نہیں کرتے ، پس ایسے نادہندہ اگر تعداد میں سے نکال دیئے جائیں تو پانچ ہزار کی ہی وہ لوگ رہ جاتے ہیں جنہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا۔مجھے خود بھی دو تین سال ہوئے یہی خیال آیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی تحریک جدید میں حصہ لینے والوں پر ہی چسپاں ہوتی ہے اور ان دنوں میں نے چوہدری برکت علی صاحب کو ایک دفعہ بُلا کر پوچھا بھی کہ