خطبات محمود (جلد 19) — Page 826
خطبات محمود ۸۲۶ سال ۱۹۳۸ء نے الہاماً اس واقعہ کی خبر دے دی اور وہ رقعہ جو اس صحابی نے اہل مکہ کی طرف لکھا تھا وہ پکڑا تھ گیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ معاملہ پیش ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بار بار جوش میں اپنی تلوار پر ہاتھ مارتے اور کہتے یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کا سرکاٹ دوں۔آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فر ما یا عمر ! تم کو معلوم ہے یہ بدری صحابی ہے۔اور بدری صحابہ کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فرما چکا ہے کہ اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَكُمُ شاید اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا دل پڑھ کر یہ بات کہی تھی اور بتایا تھا کہ ان سے کی غلطیاں سرزد ہی نہ ہوں گی۔پس جن کو اللہ تعالیٰ نے بری قرار دیا ہے تم ان کو منافق کس طرح ہے قرار دے سکتے ہو۔اللہ ! اللہ۔یہ کس قدر اعلیٰ مقام ہے جس کے لئے مال تو کیا جان دینا بھی انسان پر گراں نہیں گزرتا۔غرض بعض کام اتنے اہم ہوتے ہیں کہ دنیا میں بطور یادگار قائم رہتے ہیں اور صدیوں تک آنے والی نسلیں اس کا ذکر کئے بغیر نہیں رہتیں۔مثلاً یہی منارة امسیح۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا ہے کہ جو لوگ اس میں ایک سو روپیہ چندہ دیں گے ان کے نام اس پر کندہ کئے جائیں گے۔اب وہ لوگ جنہوں نے اس میں حصہ لیا ان کے نام دنیا میں ہمیشہ بطور یادگار قائم رہیں گے اور آنے والی نسلیں ان کے لئے دعائیں کرتی رہیں گی۔اسی طرح بعض ابتدائی جلسوں پر آنے والے مہمانوں کے نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتابوں میں لکھ دیئے ہیں۔اب خواہ کس قدر صدیاں گزر جائیں ان کے نام ان کتابوں کی میں موجود رہیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ تحریک جدید کا کام بھی اسی قسم کا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ جماعت کے مخلصین کی ایک مستقل یادگار قائم کرنا چاہتا ہے اور ان کی روحوں کو ان کی ج وفات کے بعد بھی مستقل طور پر ثواب پہنچانا چاہتا ہے کیونکہ اس چندے کے ذریعہ اشاعت اسلام کی ایک مستقل بنیاد پڑنے والی ہے۔پس تحریک جدید اپنے اندر اس قسم کی برکات رکھتی ہے اور اس قسم کے انوار اترتے محسوس ہو رہے ہیں کہ یہ امر صاف طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ جولوگ اس میں حصہ لیں گے انہیں اللہ تعالیٰ اپنے قرب کا کوئی خاص مقام عطا فرمائے گا۔دو چار دن ہوئے الفضل میں قاضی اکمل صاحب کا ایک مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک پیشگوئی کے متعلق شائع ہوا ہے جو تحریک جدید کے ذریعہ پوری ہوئی۔وہ دراصل