خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 76

خطبات محمود ۷۶ سال ۱۹۳۸ء تمہارے اندرایسی طاقتیں پیدا ہو جائیں گی کہ تم دس دس ، بیس ہیں دشمنوں کا مقابلہ کر سکو گے۔جس طرح دنیوی ریاضات کے نتیجہ میں ایک ایک جسم دس دس جسموں کو گرا لیتا ہے اسی طرح کی جب روحانی ریاضات کی جاتی ہیں تو اپنی اپنی ریاضت اور اپنے اپنے مجاہدہ کے مطابق کوئی روح دس بدروحوں کو گرا لیتی ہے، کوئی بیس کو گرا لیتی ہے، کوئی پچاس کو گرا لیتی ہے، کوئی سو کو گرالیتی ہے، کوئی ہزار کو گرا لیتی ہے اور جب کسی قوم میں زبر دست روحانی طاقت وقوت پیدا ہو جائے اُس وقت تعداد کا سوال بالکل اہمیت کھو بیٹھتا ہے۔اُس وقت یہ نہیں پوچھا جاتا کہ دشمن کی ایک کے مقابل پر دس ہیں یا نہیں بلکہ ایسی روحانی طاقت حاصل کرنے والی قوم کے تھوڑے سے آدمی ساری دنیا پر غالب آجاتے ہیں۔مثل مشہور ہے کہ ایک دفعہ چوہوں نے مشورہ کیا کہ بلی کو پکڑ کر قید کر دیا جائے۔دس ہیں نے کہا کہ ہم اُس کا کان پکڑ لیں گے، دس ہیں نے کہا کہ ہم اُس کی دُم پکڑ لیں گے ، دس ہیں نے کی کہا ہم اُس کی ٹانگوں سے چمٹ جائیں گے، اس طرح سینکڑوں چو ہے تیار ہو گئے اور انہوں کی نے کہا کہ آج بلی آئی تو ہم اسے جانے نہیں دیں گے۔یہ باتیں ہوہی رہیں تھیں کہ ایک بڑھے چوہے نے کہا تم سب کچھ پکڑ لو گے مگر یہ تو بتاؤ کہ اس کی میاؤں کو کون پکڑے گا ؟ اتفاقاً اُسی وقت ایک کونے میں سے ایک بلی کی آواز آئی جو وہاں چھپی بیٹھی تھی۔اُس نے میاؤں جو کی تو کی تمام چو ہے بھاگ کر اپنے اپنے بلوں میں گھس گئے۔غرض انسان کے اندر جب غیر معمولی یقین پیدا ہو جائے تو دنیا اُس سے دبنے لگتی ہے اور یہ ایک صوفیانہ نکتہ ہے جو تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ انسان کے اندر ایک میں ہوتی ہے جب وہ میں پاک ہو جائے تو باقی تمام دنیا کی میں اُس کے آگے دَب جاتی ہے۔اُس وقت جسموں اور تعداد کا کوئی سوال نہیں رہتا بلکہ جس طرح ایک شیر کے مقابلہ میں ہزاروں خرگوش کوئی حقیقت نہیں رکھتے اسی طرح ایسی روحانی طاقت رکھنے والے انسان کے سامنے ہزاروں کیا لا کھوں نفوس بھی بے حقیقت ہوتے ہیں کیونکہ وہ روحانیت سے خالی ہوتے ہیں اور انہی لوگوں کو پیدا کرنا ہمارا مقصود ہے۔ہماری اصل غرض نہ ایک کھانا کھانا ہے، نہ سادہ کپڑا پہننا ہے ، نہ یہ ہے نہ وہ بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہمارے اندر ایسی روحانی طاقت پیدا ہو جائے جس کے نتیجہ میں ہم میں کی