خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 75

خطبات محمود ۷۵ سال ۱۹۳۸ بیچے دیئے ہیں۔اگر آپ کو تکلیف نہ ہو تو ایک کتیا کا بچہ مجھے دے دیں کیونکہ مجھے مکان کی نگرانی کیلئے اس کی ضرورت ہے۔وہ کہنے لگا بھئی! بچے تو مر گئے ہیں لیکن اگر زندہ بھی ہوتے تو میں تمہیں نہ دیتا۔وہ کہنے لگا اب تو خدا نے بچے مار دیئے تھے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ اگر زندہ ہوتے تب بھی نہ دیتا۔اسی طرح وہ غرباء تو پہلے ہی ایک کھانا کھاتے ہیں اگر وہ ایک کھانا کھانے کی ہدایت پر اعتراض کریں تو ان کا اعتراض محض بیوقوفی ہے۔انہیں تو چاہئے تھا کہ وہ امراء کے خلاف شور مچاتے اور کہتے کہ فلاں فلاں امیر اس پر عمل نہیں کرتا اور وہ ایک سے زائد کھانے کھاتا ہے۔نہ یہ کہ وہ اس بات پر اعتراض کرتے جس میں خود انہی کا فائدہ ہے۔اس کے مقابلہ میں میں ایسے امراء کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے بعض ہدایات پر عمل نہیں کیا اور ایسے غرباء کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے خاص قربانی کر کے بعض ہدایات پر عمل کیا ہے اور جنہیں مہینوں ایک کھانا کھانے کے بعد جب کسی وقت اتفاقی طور پر دو کھانے ملے تو انہوں نے ایک کھانا ہی کھایا اور دوسرا کھانا چھوڑ دیا۔ان کی قربانی یقیناً اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت شاندار قربانی ہے اور وہ اس کے اجر سے محروم نہیں رہیں گے۔یا درکھو! اس وقت ہمارے ارد گر د اتنے ابتلاؤں کے سامان ہیں کہ ہمیں سپاہیانہ طور پر زندگی بسر کرنی چاہئے اور اپنی تمام زندگی کو مختلف قسم کی قیود کے ماتحت لانا چاہئے۔دنیا چاہتی ہے کہ احمدیت کو مٹا دے لیکن خدا یہ چاہتا ہے کہ احمدیت کو قائم کرے اور یقیناً ویسا ہی ہوگا جیسا کہ خدا کا منشاء ہے۔مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ تم سچے مسلمان بن کر اپنے اندر ایسی سادگی پیدا کرو جو تمہارے اندر مساوات پیدا کر دے، جو تمہارے اندر اخلاق فاضلہ پیدا کر دے، جو تمہارے اندر اُلفت و محبت پیدا کر دے اور جو تمہارے اندر برادرانہ اخوت و تعلق پیدا کرنے کا موجب ہو جائے تا اس کے بعد ایک طرف سے اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہو تو دوسری طرف کی سے خود تمہارے اندر ایسی طاقت اور قوت پیدا ہو جائے کہ جو بھی تمہارے سامنے آئے اسے اپنے آگے سے بھگا دو۔دیکھو! پہلوان جب اپنے شاگردوں کو کشتی لڑنا سکھاتے ہیں تو گو ان کے شاگر د دس دس ہیں ہیں ہوتے ہیں مگر وہ اکیلے سب کو گرا لیتے ہیں۔اسی طرح اگر تم بھی مجاہدات کرو گے تو تی