خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 752 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 752

خطبات محمود ۷۵۲ سال ۱۹۳۸ء مہینہ یه قربانی مسلسل ۲۹ یا ۳۰ دن چلتی ہے اور اس طرح اس کے اندر استقلال کا مادہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اگر روزے رکھنا انسان کی مرضی پر چھوڑ دیا جاتا تو آدمی دو دن روزے رکھتا اور پھر سانس لینے کی کوشش کرتا مگر اللہ تعالیٰ نے سانس لینے کی اجازت نہیں دی بلکہ ایک مین مسلسل مقرر فرما دیا اور کہہ دیا کہ سانس نہیں لینا لگا تا ر روزے رکھتے چلے جانا ہے۔پس روزوں سے دوسرا عظیم الشان سبق استقلال کا ملتا ہے اور یہ بھی تحریک جدید سے ایک گہراتعلق رکھتا ہے۔تحریک جدید میں میں نے جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ ہماری قربانیاں عارضی نہیں بلکہ مستقل ہیں۔بے شک قربانیوں کی شکلیں بدل سکتی ہیں مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی وقت یہ کہا جائے کہ اب قربانیوں کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ بغیر مستقل قربانیوں کے کوئی شخص خدا تعالیٰ کو نہیں پاسکتا۔جس شخص کے دل میں بھی یہ خیال آیا کہ میں سانس لے لوں وہ سمجھ لے کہ اس کا ایمان ضائع ہو گیا۔تم میں سے کئی ہیں جنہوں نے بڑی دیانت داری سے قربانیاں کیں ، تم میں سے کئی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حضور چلائے اور انہوں نے آہ وزاری کی ہم میں سے کئی ہیں کی جنہوں نے روزے رکھے ، تہجد پڑھی نوافل ادا کئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور روئے اور گڑ گڑائے تم میں سے کئی ہیں جنہوں نے چندے دیئے اور اپنے بیوی بچوں کے پیٹ کاٹ کر دیئے، تم میں سے کئی ہیں جنہوں نے خود بھوکے اور ننگے رہ کر ز کو تیں دیں اور دوسرے فرائض ادا کئے مگر انہوں نے دیکھا کہ ان قربانیوں کے وہ نتائج انہیں حاصل نہیں ہوئے جو ایسی قربانیوں کے نتیجہ میں ملا کرتے ہیں اور جن کی وہ امید لگائے بیٹھے تھے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے قربانی تو کی مگر استقلال سے قربانی نہیں کی۔ان کا جوش ایسا ہی تھا جیسے عوام الناس جب کوئی پر جوش تقریر سنتے ہیں تو لڑنے مرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں مگر تھوڑی دیر کے بعد ہی جب دیکھا جائے تو ان کے دل بالکل ٹھنڈے ہو چکے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی گرمی نہیں ہوتی۔اگر ان قربانیوں کا محرک حقیقی اخلاص اور حقیقی جوش ہوتا تو چاہئے تھا کہ وہ اپنی قربانیوں میں بڑھتے چلے جاتے اور کسی واعظ اور کسی یاد دلانے والے کی ضرورت محسوس نہ کرتے کیونکہ حقیقی محبت جوش دلانے سے تعلق نہیں رکھتی اور نہ وہ عارضی ہوتی ہے بلکہ حقیقی محبت استقلال سے تعلق رکھتی ہے۔تم اپنے بچہ سے محبت کرتے ہو مگر کیا تم بچوں سے محبت کرنے کے لئے کسی کے