خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 751 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 751

خطبات محمود ۷۵۱ سال ۱۹۳۸ء اور سوتے وقت طعام شب کا استعمال کرتے ہیں۔اس کے علاوہ چار پانچ دفعہ انسان کو پانی کی بھی پینا پڑتا ہے۔اس طرح دس گیارہ دفعہ انسان کھاتا پیتا ہے۔زمیندار بھی اگر زیادہ اعلیٰ کھانا کی استعمال نہیں کر سکتے تو اپنی حیثیت کے مطابق مختلف کھانے ضرور استعمال کرتے ہیں۔پہلے صبح کا ناشتہ کرتے ہیں، اس کے بعد دو پہر کا کھانا کھاتے ہیں ، پھر عصر کے وقت بعض زمینداروں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ دانے بھنا لیتے ہیں یا دو پہر کی بچی ہوئی روٹی ہو تو وہی کھا لیتے ہیں ، شام کی کو پھر کھانا کھاتے ہیں اور سوتے وقت دودھ پیتے ہیں۔چھاچھ یا پانی جو درمیان میں پیتے رہتے ہیں وہ اس کے علاوہ ہے۔گویا غرباء اور امراء ، شہری اور دیہاتی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق عام ایام میں دس بارہ دفعہ کھاتے پیتے ہیں مگر رمضان میں تمام کھانے سمٹ سمٹا کر صرف دو بن جاتے ہیں۔اسی طرح پانی میں بہت کچھ کمی آجاتی ہے۔یعنی اس کے پینے کے اوقات بہت کم ہو جاتے ہیں۔گو بعض لوگ روزہ کی افطاری کے وقت اکٹھا ہی اتنا پانی پی لیتے ہیں جتنا وہ دن بھر میں پیا کرتے ہیں لیکن پھر بھی پانی پینے کا عرصہ بہت کم ہو جاتا ہے۔یہ کھانے پینے کی جو تنگی ہے باقی زندگی کے دنوں سے بالکل نرالی ہوتی ہے۔پہلے بھی بے شک کھانے پینے میں وقفے ہوتے ہیں مگر وہ اتنے لمبے نہیں ہوتے جتنے رمضان میں ہوتے ہیں۔کھانے پینے کا وقفہ عام طور پر دو تین کی گھنٹے کا ہوتا ہے مگر رمضان میں اول تو تمام کھانے سمٹ سمٹا کر دو کھانوں پر آجاتے ہیں اور پھر وقفہ بھی کافی لمبا ہو جاتا ہے۔پس رمضان کے ایام میں اپنی عادت کی بہت کچھ قربانی کرنی پڑتی ہے اور یہ قربانی ایک دن نہیں دو نہیں ، تین نہیں ، ایک مہینہ تک بغیر کسی ناغہ کے کرنی پڑتی ہے۔بے شک شام کو انسان روزہ کھول لیتا ہے مگر دراصل شام کو روزہ کھولنا دوسرے دن کے روزہ کی تیاری ہوتا ہے کیونکہ ادھر انسان روزہ کھولتا اور کھانا کھاتا ہے اور اُدھر نمازیں پڑھ کر اس نیت سے سو جاتا ہے کہ میں نے پچھلی رات تہجد کے لئے اٹھنا اور پھر روزہ رکھنا ہے اور یہ طبعی بات ہے کہ کوئی احساس نیند کے وقت میں نہیں ہوتا۔کہتے ہیں سویا ہوا اور مُردہ برابر ہیں۔پس جو اس کے سونے کا وقت ہے وہ احساس کا نہیں اور جو اس کے احساس کا وقت ہے اُسے وہ کلی طور پر روزہ کے لئے وقف کر دیتا ہے۔کچھ روزہ رکھتے ہوئے اور کچھ روزہ کی نیت کی کرتے ہوئے۔اور اگر اسے کوئی سفر پیش نہ آجائے یا اتفاقیہ طور پر بیمار نہ ہو جائے تو اس کی