خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 753 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 753

خطبات محمود ۷۵۳ سال ۱۹۳۸ء یاد دلانے کی ضرورت محسوس کیا کرتے ہو؟ کیا تم نے کبھی محسوس کیا کہ سال دو سال گزرنے کے بعد اپنے بچہ کی محبت تمہارے دل میں کم ہونی شروع ہوگئی ہو اور تمہیں اس بات کی ضرورت کی محسوس ہوئی ہو کہ کوئی واعظ آئے اور تمہیں جگائے اور کہے کہ اپنے بچہ سے محبت کرو؟ آخر دنیا میں اسی نوے فیصدی لوگ شادیاں کرتے ہیں اور ان کی اولادیں بھی ہوتی ہیں۔بعض مریض اخلاقی یا مریض جسمانی شادی بھی نہیں کرتے مگر وہ بہت کم ہیں۔مریض اخلاقی سے میری مراد وہ بدکار لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں شادی کی کیا ضرورت ہے ہم بغیر شادی کے اپنا تج گزارہ کر لیتے ہیں اور مریض جسمانی وہ لوگ ہیں جن کی جسمانی طاقت شادی کی متحمل نہیں کی ہوتی ان کو اگر مستثنیٰ بھی کر دیا جائے تو اسی نوے فیصدی لوگ شادیاں کرتے ہیں اور ان کے بچے بھی ہوتے ہیں کیا اتنی بڑی اکثریت کو کبھی تم نے دیکھا کہ ان میں بچوں کی محبت کبھی کم ہوگئی ہو اور وہ اس بات کے محتاج ہوئے ہوں کہ انہیں یاد دہانی کرائی جائے اور کہا جائے کہ اپنے کی بچوں سے محبت کرو تمہاری ان سے محبت کم ہو گئی ہے۔اگر ایک بھی مثال ہمیں ملتی تو ہمارے نفس کی بہانہ کر سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے اور اس کے دین کے لئے قربانیاں کرنے کے لئے بھی ہمیں یاد دہانی کی ضرورت ہے مگر ہمیں تو ایک مثال بھی ایسی نظر نہیں آتی۔کیا تم نے کبھی کوئی ماں دیکھی جس کو اپنے بچہ سے محبت نہ ہو اور اسے کسی مولوی یا پنڈت یا پادری کے واعظ کی ضرورت ہو؟ کبھی تم نے دیکھا کہ ماؤں کے سامنے مولوی یہ لیکچر دے رہے ہوں کہ اے مسلمان ماؤ! اپنے بچوں سے محبت کر دیا پنڈت ہندو عورتوں کے سامنے یہ تقریریں کر رہے ہوں کہ ماؤں کو اپنے بچوں سے محبت کرنی چاہئے؟ یا پادری عیسائی عورتوں کو تلقین کر رہے ہوں کہ اے ماؤ! اپنے بچوں سے محبت کرو؟ یا کبھی تم نے دیکھا کہ قومی تحریک کے نام سے یہ تحریک اٹھی ہو کہ ماؤں کے دلوں میں بچوں کی محبت پیدا کی جائے ؟ یا کبھی تم نے دیکھا کہ گورنمنٹ نے ایسی کتابیں تصنیف کی ہوں جن میں یہ لکھا ہو کہ ماؤں کو بچوں سے محبت کرنی چاہئیے ؟ تم نے دنیا میں ایسا کبھی نہیں دیکھا اس لئے کہ ایسے وعظ کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں اسے اپنے گلے سے چمٹا لیتی ہے اور پھر اسے چمٹائے چلی جاتی ہے۔وہ بعض دفعہ ناراض بھی ہوتی ہے اور ناراض ہونا انسانی فطرت کا تقاضا ہے مگر اس کی ناراضگی بھی اس کی محبت کو نہیں چھڑا سکتی۔