خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 750 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 750

خطبات محمود ۷۵۰ سال ۱۹۳۸ حائل ہے وہ اس کے ذریعہ سے بالکل پائی جاتی ہے۔دوسرا فائدہ رمضان کا یہ ہے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو استقلال کی عادت ڈالی جاتی ہے کیونکہ یہ نیکی متواتر ایک مہینہ تک چلتی ہے۔غذا انسان کے ساتھ اس طرح لگی ہوئی ہے کہ اگر ہر انسان کھانے پینے کا اندازہ لگائے تو دیکھ سکتا ہے کہ وہ دن بھر میں دس بارہ دفعہ ضرور کھاتا پیتا ہے۔دو دفعہ کھانا تو ہمارے ملک میں عام ہے لیکن اس کے علاوہ غرباء اور امراء دونوں اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر انہیں میسر آسکے تو تیسرے وقت کا کھانا بھی کھائیں۔یعنی صبح کا کی ناشتہ کر لیں کیونکہ اطباء کے تجربے نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ صبح کچھ نہ کچھ کھانا صحت کے لئے مفید ہوتا ہے۔پنجابی میں شاید اسے شاہ ویلا کہتے ہیں۔ایک زمیندار بھی اگر اور نہیں تو چھاچھ ہی پی لے گا یا باسی روٹی ہی کھا لے گا۔اور اگر کسی کو زیادہ تو فیق ہوگی تو باسی روٹی اور مکھن کھائے گا۔ہماری زبان کی کئی ضرب الامثال اس وقت کے کھانے کی تائید میں ملتی ہیں اور جسے میسر آتا ہے وہ علاوہ دو وقت کھانے کے صبح کا ناشتہ ضرور کرتا ہے۔پس اس طرح تین وقت کھانا ہو گیا اور جو لوگ انگریزی طریق پر زندگی بسر کرتے ہیں یا شہری زندگی کے عادی ہو چکے ہیں وہ تین وقت کی بجائے چار وقت کھانا کھاتے ہیں ، یعنی شام کو بھی ناشتہ کرتے ہیں۔زمینداروں میں سے بھی بعض چار دفعہ کھاتے ہیں یعنی عصر کے وقت دانے بھنوا کر چبا لیتے ہیں۔پھر ایک اور کھانا ہے جس کا استعمال انگریزی طرز کے عادی لوگوں میں اور بعض زمینداروں کی میں بھی پایا جاتا ہے۔انگریزوں میں وہ سپر (SUPPER) کہلاتا ہے یعنی رات کو زیادہ جاگنے پر وہ پہلی شب کے کھانے کے بعد ایک اور ہلکا سا کھانا کھاتے ہیں۔بعض زمینداروں میں اس کھانے کا رواج اس رنگ میں ہے کہ وہ روزانہ رات کو سوتے وقت دودھ کا ایک گلاس پی لیتے ہیں اور اسے طاقت کے قیام کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔اس طرح دن رات کے پانچ کھانے ہو جاتے ہیں۔خالص انگریزی تمدن میں تو چھ کھانے بھی استعمال کر لئے جاتے ہیں۔چنانچہ انگریزوں میں یہ رواج ہے کہ علی اصبح چائے بسکٹ استعمال کرتے ہیں اور پھر چائے پی کر سو جاتے ہیں۔گویا چائے وہ قریباً سحری کے وقت استعمال کرتے ہیں، اس کے بعد صبح کا ناشتہ کرتے ہیں، پھر دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں، پھر شام کی چائے پیتے ہیں، پھر شام کا کھانا کھاتے ہیں ،