خطبات محمود (جلد 19) — Page 74
خطبات محمود ۷۴ سال ۱۹۳۸ء اپنی ترقی کیلئے جد و جہد کرنے کا موقع مل جائے۔کئی چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میری خواہش ہے کہ انہیں اس وقت دور کر دینا چاہئے مگر وہ چونکہ حکومت سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے انہیں دور نہیں کیا جاسکتا۔اگر اسلامی حکومت ہوتی تو میں کہتا کہ ان باتوں کو ابھی دور کر دو مگر چونکہ حکومت غیر ہے اس لئے محبت، پیار اور آہستگی کے ساتھ قدم آگے بڑھانا ضروری ہے اور اُس دن کا انتظار کرنا چاہئے جب اللہ تعالیٰ ہمارے حاکموں کے دلوں کو کھول دے۔ورنہ ان احکام کی ضرورت آج بھی اسی طرح قائم ہے جس طرح آج سے تیرہ سو سال پہلے قائم تھی۔سادہ زندگی کے متعلق آجکل ہمیں ایک اور نقطہ نگاہ سے بھی غور کرنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ یہ ایام سلسلہ کیلئے سخت نازک ہیں اور جماعت نے کئی قسم کے چندوں کے وعدے کئے ہیں جن کا اثر ایک دو سال تک رہے گا۔پس اس لحاظ سے بھی یہ نہایت ہی ضروری امر ہے کہ سادہ زندگی اختیار کی جائے۔اگر ایک باپ کا اپنے بچوں کے اخراجات پر یا خاوند کا اپنی بیوی کے زیورات پر اُسی طرح روپیہ خرچ ہو رہا ہے جس طرح پہلے خرچ ہوا کرتا تھا تو اسے دین کی خدمت کا موقع کس طرح مل سکتا ہے۔اگر وہ زیورات پر روپیہ خرچ کرے گا تو دین کی خدمت سے محروم رہے گا اور اگر دین کیلئے روپیہ دے گا تو لازماً اسے سادہ زندگی اختیار کرنی پڑے گی اور بعض قیود اپنے او پر عائد کرنی ہوں گی۔پس اس زمانہ میں ان مطالبات پر عمل کرنا بہت زیادہ ضروری ہے اور پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہے۔میں جہاں تک سمجھتا ہوں جماعت کا ایک بڑا حصہ دیانت داری سے ان احکام پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے امراء میں سے بھی اور غرباء میں سے بھی اور بعض سست بھی ہیں۔مجھے بعض امراء ایسے معلوم ہیں جنہوں نے سختی سے ان مطالبات پر عمل کیا ہے اور سادہ زندگی کے متعلق اپنے اوپر قیود عائد کی ہیں اور مجھے بعض غرباء ایسے معلوم ہیں جنہوں کی نے کہا ہے کہ ایک کھانا کھانا یہ کون سی شریعت کا حکم ہے حالانکہ یہ محض ان کے فائدہ کی بات تھی اور پھر وہ تو پہلے ہی ایک کھانا کھایا کرتے تھے۔انہیں تو چاہئے تھا اس مطالبہ کی تائید کرتے نہ کہ مخالفت۔مگر انہوں نے مخالفت کی اور اس پر عمل نہ کیا۔گویا ان لوگوں کی مثال جنہوں نے غرباء میں سے اس مطالبہ پر عمل نہ کیا ویسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کسی شخص کے دوست کی کٹیا نے بچے دیے۔اسے معلوم ہوا تو وہ اس کے پاس گیا اور کہنے لگا میں نے سنا ہے آپ کی کنیا نے کی