خطبات محمود (جلد 19) — Page 732
خطبات محمود ۷۳۲ سال ۱۹۳۸ء گزشتہ چند سالوں میں پنجاب میں بعض انگریزوں نے ہمارے ساتھ نہایت ہی گندہ رویہ اختیار کئے رکھا ہے اور بہت بری فطرت کا ثبوت پیش کیا ہے اور اسکی سزا ان لوگوں کو مل بھی رہی ہے اور انشاء اللہ اور بھی ملتی رہے گی اور اس امر کا ثبوت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اپنے دشمنوں کو سزا دینے کے لئے زمینی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ خود آسمانی حربوں سے ان کا بدلہ لیتا ہے مگر باوجود ان حالات کے ہم یہ نہیں کر سکتے کہ سب انگریزی قوم کو بُرا کہیں اور ان کے اچھے افراد کی خوبیوں کا اعتراف نہ کریں مسٹر چیمبر لین نے ستر سال کی عمر میں جس درد کی کے ساتھ تکلیف کو برداشت کر کے امن قائم کرنے کی کوشش کی ہے وہ انگریزی قوم کے لئے باعث فخر ہے اور مسٹر چیمبر لین کی عزت کو بڑھانے کا باعث۔انہوں نے قطعاً کوئی بزدلی نہیں دکھائی ، پارلیمنٹ میں انہوں نے جو تقریر کی وہ بہت ہی شریفانہ تھی ، آپ نے کہا کہ ہمیں آج سے بیس سال قبل چاہئے تھا کہ ایک قوم کو دوسری کے ماتحت نہ کرنے دیتے ، پھر اس میں سال کے عرصہ میں کئی مواقع آئے مگر ہم نے اس کا ازالہ نہ کیا اور اس ظلم کو یونہی رہنے دیا۔یہ ایک ایسی بات ہے جو با اخلاق آدمی کے منہ سے ہی نکل سکتی ہے اور گو وہ سچے مذہب پر قائم نہیں ہیں لیکن ان کی اس تقریر سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ ان کے اندر شرافت اور خوف خدا ضرور ہے آج ہی میں نے ان کی تقریر کا ایک اور فقرہ سنا۔ان کے ملک میں بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بڑھا بزدل ہے بلکہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اسے الگ کر دیا جائے لیکن آپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ لوگ مجھ پر اعتراض کر رہے ہیں اور میرا اعمل یہ ہے کہ میں نے سخت مصیبت اٹھا کر آگ میں سے ایک چیز نکالی ہے اور وہ دنیا کا امن ہے۔تم مجھے بیشک گالیاں دے لو مگر میں نے یہ کام کیا کی ہے کہ دنیا میں امن قائم کر دیا ہے اور دنیا کو بہت بڑی تباہی سے بچالیا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی کئی بار یہ کہہ چکا ہوں کہ اگر اب جنگ ہوئی تو نہایت خطرناک ہوگی اور عین ممکن ہے کہ ایک دو سال میں ہی دس ہیں بلکہ پچاس کروڑ آدمی مارا جائے اور گو یہ جنگ ہو کر تو رہے گی کیونکہ پیشگوئیوں سے یہی ثابت ہوتا ہے مگر اسے بھڑ کانے والے خطر ناک مجرم ہونگے اور اگر اس کے آثار دیکھتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کوشش کی کہ یہ جنگ ٹل جائے اور اس بناء پر کی کہ ایک قوم کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے تو اس کی یہ کوشش بہت قابل قدر ہے