خطبات محمود (جلد 19) — Page 733
خطبات محمود ۷۳۳ سال ۱۹۳۸ء اور اس کے ذریعہ قرآن کریم کے اصول غالب آئے ہیں اور ہمیں یہ موقع ملا ہے کہ ہم یورپ سے کہیں کہ تم نے سینکڑوں سال کے تجربہ کے بعد ایک لیگ قائم کی لیکن غلام ہندوستان کے شہروں سے دور ایک گاؤں سے جہاں گواب گاڑی آچکی ہے مگر اس وقت نہیں تھی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غلام نے یہ آواز اٹھائی کہ میرے آقا نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر جو تعلیم دی تھی تم اس کے خلاف چل رہے ہو اس لئے اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا اور اس آواز کے چودہ سال بعد تم نے اپنے عمل سے تسلیم کر لیا ہے کہ تمہارا فیصلہ غلط تھا اور امن قائم کرنے کا وہی طریق ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور جسے اسکے ایک خادم نے چودہ سال پہلے پیش کیا تھا۔یعنی یہ کہ جب تم ظالم کو دبا لوتو یہ نیت مت کرو کہ اب موقع ہے اسے مٹا دیں صرف مظلوم کا حق اسے دلوا دو اور بس۔اگر جنگِ عظیم کے بعد اس تعلیم پر عمل کیا جاتا تو نہ زیکوسلواکیہ کی یہ حکومت قائم ہوتی نہ مسولینی اور نہ فیو ہرر پیدا ہوتے اور نہ نئی جرمنی معرض وجود میں آتی اور نہ اس جنگ کے آثار نمودار ہوتے جو بظاہر ایک دن واقع ہو کر ہی رہے گی اور جس کی تباہی کا خیال کر کے بھی الفضل ۱۹ اکتوبر ۱۹۳۸ ء ) انسان کا دل کانپ جاتا ہے۔66