خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 731 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 731

خطبات محمود ۷۳۱ سال ۱۹۳۸ء وجہ سے اس کے دل میں خیال پیدا ہونا شروع ہوا کہ میرے سوا کسی کو مونچھیں اونچی کرنے کا حق ہی نہیں۔بازار میں چلتے چلتے ذرا کسی کے بال کھڑے دیکھے خواہ کپڑا لگنے سے ہی ہو گئے ہوں تو جھٹ اسے ڈانٹنا شروع کر دیا کہ کم بخت مونچھیں نیچی کرتا ہے یا نہیں۔شہر والے اس کی ان حرکات سے سخت تنگ تھے مگر جرات نہیں کرتے تھے کہ اسے کچھ کہیں۔ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اسے سیدھا کروں گا چنانچہ اس نے گھر میں بیٹھ کر مونچھوں کے بالوں کو خوب پالنا شروع کیا تج اور خوب موم لگا لگا کر انکو اونچا کرتا رہا اور پھر ایک روز خوب اکڑ کر اور تلوار وغیرہ لگا کر بازار میں آیا۔کسی نے خان صاحب کو بھی خبر کر دی وہ بہت جزبز ہوئے اور اسے کہا کہ کم بخت مونچھیں نیچی کرتا ہے کہ نہیں، تجھے معلوم نہیں کہ یہاں سوائے میرے کوئی مونچھیں اونچی نہیں رکھ سکتا۔اس کی نے جواب دیا کہ تم کون ہو؟ میرا حق ہے کہ مونچھیں اونچی رکھوں بلکہ میں تم کو کہتا ہوں کہ تم فوراً مونچھیں نیچی کر لو نہیں تو تمہاری میری جنگ ہوگی اور فیصلہ تلوار سے ہوگا۔اس پر خان صاحب نے بھی تلوار سنبھالی لیکن قبل اس کے کہ لڑائی شروع ہو اس شخص نے کہا کہ خان صاحب مجھے ایک خیال آیا ہے۔لڑائی میں اگر آپ مارے گئے تو آپ کی بیوی بیوہ اور بچے یتیم ہو جائیں گے اور پھر طرح طرح کے مصائب اٹھائیں گے اور اگر میں مارا گیا تو میرے، اس لئے بہتر ہوگا کہ آپس میں لڑنے سے قبل پہلے اپنی اپنی بیوی اور بچوں کا صفایا کر دیا جائے تا ہماری وجہ سے انہیں تکلیف نہ ہو۔خان صاحب فوراً آمادہ ہو گئے ، گھر میں گئے اور سب کو ہلاک کر کے آئے۔ہاتھ میں تلوار تھی جس سے خون ٹپک رہا تھا اور آتے ہی اس سے کہا کہ آؤ اب فیصلہ کر لیں لیکن اس کی نے جواب دیا کہ نہیں خان صاحب میں نے سوچنے کے بعد یہی فیصلہ کیا ہے کہ مجھے اپنی مونچھیں نیچی کر لینی چاہیں آپ ہی اونچی رکھیں میری رائے اب بدل گئی ہے۔تو وہی کام فرانس نے کیا ہے۔پہلے تو ایک قوم بنوائی حالانکہ اس وقت انگریز اور امریکہ سب اس بات کے خلاف تھے لیکن جب وہ قوم تیار ہوگئی اور ادھر سے جرمن تیار ہوئے کہ ہم لڑتے ہیں تو فرانس نے جھٹ مونچھیں نیچی کر لیں اور بیچ میں آکر کہ دیا کہ نہ لڑو۔مگر اتنی کسر رہ گئی کہ اس شخص نے تو دشمن کو اپنی کچ تدبیر سے نقصان پہنچایا تھا فرانس نے خود اپنے دوستوں کو نقصان پہنچایا ہے۔پس اگر اس میں کسی پر الزام آ سکتا ہے تو فرانس پر انگریزوں پر نہیں۔اس میں شک نہیں کہ