خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 70

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء اگر دولت بعض لوگوں کے ہاتھ میں بے اندازہ طور پر چلی جائے تو حکوت سب کیلئے کھانا پینا، لباس اور مکان کس طرح مہیا کر سکتی ہے۔پس جب بھی اسلامی حکومت قائم ہوئی اسے ضرور ایسے تغیرات کرنے پڑیں گے جن کے ماتحت ہر شخص کیلئے کھانا پینا کپڑا اور مکان مہیا ہو سکے گا۔بلکہ اس زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے ایک اور چیز بھی اس میں شامل کرنی پڑے گی اور وہ علاج کی ہے۔اس زمانہ میں بیماریوں کا علاج اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ میرے نزدیک علاج بھی حکوت کے ذمہ ہونا چاہئے اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے یہ بتایا ہے کہ تعلیم بھی اسی میں شامل ہے۔چنانچہ بدر کے موقع پر جب کفار کے بہت سے قیدی آئے تو ان میں سے بعض پڑھے لکھے تھے۔انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم مدینہ کے بچوں کو پڑھا دو تو تمہاری طرف سے یہی فدیہ سمجھا جائے گا اور تمہیں اس کے بدلہ میں رہا کر دیا جائے گا۔۵ تو تعلیم ، علاج ، کھانا، پینا، کپڑا اور مکان یہ دنیا کے تمام لوگوں کو میسر آنا چاہئے۔اور اگر کوئی ملک کی ایسا ہے جس میں ایک شخص تو اپنا علاج کراسکتا ہے مگر دوسرا بیماری سے ہر وقت کراہتا رہتا ہے، ایک شخص تو اپنے لئے کپڑے مہیا کر سکتا ہے مگر دوسرا سردیوں اور گرمیوں میں ننگے بدن پھرتا ہے، ایک شخص تو مکان میں رہتا ہے مگر دوسرے کو اپنا سر چھپانے کیلئے ایک جھونپڑی بھی میسر نہیں تو وہ ملک کبھی جنت نہیں کہلا سکتا بلکہ وہ دوزخ ہے۔ہزاروں آدمی ہمارے ملک میں ایسے ہیں جو بڑھے ہو جاتے ہیں، اُن کی بیوی پہلے فوت ہو چکی ہوتی ہے اور ان کا کوئی بچہ نہیں ہوتا جوان کی خبر گیری کرے، وہ اکیلے اپنی کوٹھڑی میں دن رات پڑے رہتے ہیں، نہ انہیں روٹی دینے والا کوئی ہوتا ہے نہ اُنہیں پانی دینے والا کوئی ہوتا ہے ، نہ اُن کی بلغم اٹھانے والا کوئی ہوتا ہے، نہ اُن کا علاج کرنے والا کوئی ہوتا ہے۔یہ کتنے غضب اور کتنی لعنت کی بات ہے اُس قوم کیلئے جس کی قوم میں ایسے افراد موجود ہوں۔مگر یہ تمام باتیں اسلامی طریق عمل اختیار کرنے سے ہی دور ہوسکتی ہیں، اس کے بغیر نہیں۔اور اس وقت لازمی طور پر اُن ٹیکسوں پر حکومت کا گزارہ نہیں ہو سکے گا جو ٹیکس حکومت کی طرف سے اب وصول کئے جاتے ہیں۔پس اُس وقت اسلامی حکومت کو بعض نئے ٹیکس لگانے پڑیں گے اور امراء سے زیادہ روپیہ وصول کرنا پڑے گا جیسا کہ اسلامی اصول اس بارے میں موجود ہیں اور پھر اس روپیہ سے غرباء کی خبر گیری کرنی کی