خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 71

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ پڑے گی لیکن جب تک اسلامی حکومتیں قائم نہیں ہوتیں ہمیں اس مقصد کیلئے تیاری تو کرنی چاہئے۔ہمیں کیا پتہ کہ کب خدا تعالیٰ حاکموں کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیر دے اور وہ دوڑتے ہوئے اسلامی احکام کو دنیا میں قائم کرنے لگ جائیں۔فرض کرو ایک دن ایسا آتا ہے جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ بھی اور وزراء بھی اور امراء بھی اور بڑے بڑے جرنیل بھی سب اسلام قبول کرنے کیلئے تیار ہیں تو بتاؤ کیا ہم اُس وقت تیاری کریں گے یا ہمیں آج سے می ہی تیاری شروع کر دینی چاہئے۔پس ہمیں اس عظیم الشان مقصد کیلئے جس کو پورا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو قائم کیا ہے تیار رہنا چاہئے اور تجربہ سے ان احکام کی باریکیوں کو پہلے سے دریافت کر چھوڑنا چاہئے اور اپنی قربانیوں سے اسلام کے احکام کو عملی رنگ دیتے چلے جانا چاہئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بادشاہوں اور حاکموں کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیر دے اور پھر وہ اسلامی احکام کے اس حصہ کی تکمیل شروع کر دے جس کی تکمیل کرنی اس وقت ہمارے لئے ناممکن ہے۔چندوں کی وصولی کا جو طریق موجودہ حالت میں ہم جماعتی طور پر اختیار کئے ہوئے ہیں وہ کی یقیناً ایسا نہیں کہ اس سے وہ تمام ضرورتیں پوری ہوسکیں جن ضرورتوں کو پورا کرنا اسلامی حکومت کا فرض ہے۔دوسرے موجودہ حالت میں ہمارا بہت سا روپیہ تبلیغ پر خرچ ہورہا ہے اور ہونا چاہئے۔پس ان وجوہ سے ہم قادیان جیسی چھوٹی بستی میں بھی جہاں صرف چند ہزار نفوس ہیں، اس اسلامی طریق کو کہ ہر شخص کو کھانا ، مکان اور لباس وغیرہ بہر حال میسر ہو جاری نہیں کر سکتے بلکہ ابھی تو ہماری یہ حالت ہے کہ ہم کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو جھٹ ایک منافق شور مچانے لگ جاتا ہے اور ہمارا کچھ روپیہ اس منافق کی آواز کو دبانے اور اس کے فتنے کو دور کرنے میں خرچ ہونے لگتا ہے۔پس تحریک جدید کے یہ مطالبات ایسے نہیں جنہیں اب منسوخ کر دیا جائے یا ایک عرصہ کے بعد منسوخ کر دیا جائے۔ہاں ان مطالبات میں تغیر ہوسکتا ہے کیونکہ تفصیلات کے متعلق اسلام نے ہر زمانہ کے اہل الرائے پر معاملہ کو چھوڑا ہے اور اجتہاد کی اجازت دی ہے۔پس اجتہاد بدل بھی سکتا ہے لیکن اصول بہر حال یہی رہے گا جو تحریک جدید کے مطالبات میں ہے کہ سادہ زندگی اختیار کرو، سادہ کھانا کھاؤ ، سادہ لباس پہنو اور آرائش وزیبائش کے سامانوں