خطبات محمود (جلد 19) — Page 69
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء رکھتے ہوئے کہ وہ زیور پسند کرتی ہے اور جس کا قرآن کریم نے بھی يُنَشَّوانِى الْحِلْيَةِ میں ذکر فرمایا ہے اسے تھوڑا سا زیور پہنے کی اجازت ہے۔اسی طرح ریشیم اللہ تعالیٰ نے مردوں کیلئے منع کیا ہے مگر عورتوں کیلئے اس کا پہننا جائز رکھا ہے۔اس طرح اسلام نے عورت کا یہ حق کیا ہے کہ وہ کچھ زیور پہن کر اور کچھ ریشمی لباس میں ملبوس ہو کر زیب وزینت کر سکتی ہے اس لئے میں نے یہ اجازت دی ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر کچھ زیور بنوا لیا جائے لیکن اس کے بعد کسی نئے زیور کے بنوانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی سوائے خاص حالات اور اجازت کے۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ٹوٹے پھوٹے زیور کی مرمت کرالی جائے کیونکہ زیورات ملک کی تجارت اور زراعت اور صنعت و حرفت کی ترقی میں سخت روک ہیں اور اس طرح ملک کا کروڑوں روپیہ بغیر کسی فائدہ کے بند پڑا رہتا ہے اور کسی قومی یا ملکی فائدہ کیلئے استعمال نہیں ہوسکتا۔ایک عورت اگر اپنے پاس دس ہزار روپیہ کا زیور بھی رکھ لیتی ہے تو کسی کو اس سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن اگر وہ دس ہزار روپیہ تجارت میں لگا دیتی ہے اور پندرہ میں آدمی پرورش پا جاتے ہیں تو اس سے ملک اور قوم کو بہت بڑا فائدہ پہنچے گا اور گو اس صورت میں اس کو بھی نفع ملے گا لیکن یہ نفع دوسروں کو نفع میں شامل کر کے ملے گا۔اس لئے شریعت اس کی اجازت دے گی۔تو اسلام روپیہ کے استعمال کی وہ صورت پسند کرتا ہے جسے لوگ استعمال کریں۔وہ صورت پسند نہیں کرتا جس میں آنکھیں اسے دیکھ دیکھ کر لذت حاصل کریں مگر لوگ اس کے فائدہ سے محروم کی ر ہیں۔پس زیورات کے بنوانے میں جس قدر احتیاط کی جاسکے وہ نہ صرف امارت وغربت کا امتیاز دور کرنے کیلئے ، نہ صرف مذہبی احکام کی تعمیل کرنے کیلئے بلکہ اپنے ملک کو ترقی دینے کیلئے بھی نہایت ضروری ہے۔پس یہ احکام ایسے نہیں جنہیں بدلنے کی ضرورت ہو۔بلکہ ہوسکتا ہے کہ کسی وقت ان میں زیادہ سختی کی ضرورت پیش آجائے۔اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر حکومت مسلمان ہو یا اسلامی احکام کے نفاذ کی اجازت اس کی طرف سے ہو تو ایسی کئی قیود لگانی پڑیں گی جن کے ماتحت افراد کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے کیونکہ اسلام کا منشاء یہ ہے کہ دنیا کے ہر انسان کو کھانا ضرور مہیا ہو ، پانی ضرور مہیا ہو ، لباس ضرور مہیا ہو اور مکان ضرور مہیا ہو۔اور جب بھی اسلام کا یہ مقصد پورا ہوگا لازماً امیروں کے ہاتھ سے دولت چھینے گی کیونکہ