خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 621 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 621

خطبات محمود ۶۲۱ سال ۱۹۳۸ء عرصہ گزر جائے مجھے یا د رہتی ہے۔جن باتوں کا یا درکھنا میرے کام سے تعلق نہ ہو وہ مجھے یاد نہیں رہتیں۔حوالے میں سمجھتا ہوں کہ دوسروں سے نکلوالوں گا اس لئے یاد نہیں رکھ سکتا اور جو سورتیں میں روز پڑھتا ہوں ان کی آیت سن کر بھی فوراً نہیں کہہ سکتا کہ فلاں سورۃ کی ہے۔ہاں بسم الله سے شروع کر کے ساری سورۃ پڑھوں تو پڑھ لوں گا لیکن ایک آیت کے متعلق پتہ نہیں لگا سکتا کہ کہاں سے ہے۔سوائے پانچ سات چھوٹی سورتوں کے یا سورہ فاتحہ کے۔بڑی بڑی سورتیں جو یاد ہیں ان سے درمیان کا ٹکڑہ سن کر حوالہ نہیں نکال سکتا لیکن یوں بات یاد رکھنے میں میرا حافظہ ایسا ہے کہ بعض خطوط جب پرائیویٹ سیکرٹری دو دو ماہ بعد پیش کرتا اور کہتا ہے کہ فلاں نے یہ لکھا ہے اور اگر ان کی غلطی ہو تو میں کہہ دیتا ہوں کہ اس نے یہ تو نہیں بلکہ یہ لکھا ہے۔جب میں ڈاک کے جواب مسجد میں لکھوایا کرتا تھا تو بعض لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے کہ بات کی وہی صحیح ہوتی تھی جو میں کہتا تھا حالانکہ خط سیکرٹری کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔تو میرا حافظہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایساز بر دست ہے کہ بہت کم لوگوں کا ایسا ہوگا۔مضمون کے لحاظ سے حوالہ ایسا یاد رہتا ہے کہ کوئی حافظ اس طرح نہیں رکھ سکتا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ لاہور میں مجھے اچانک تقریر کرنی پڑی حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے جو آیات کا حوالہ نکالنے میں بڑی مہارت رکھتے تھے ان کو میں نے پیچھے بٹھا لیا اور مضمون بیان کرنا شروع کر دیا جب ضرورت ہوتی ان سے حوالہ دریافت کر لیتا۔اگلے دن ایک ہندو اخبار نے لکھا کہ تقریر تو بہت اچھی تھی لیکن ایک بات قابل ذکر ہے اور وہ یہ کہ موقع پا کر میں سٹیج کی پچھلی طرف چلا گیا تو معلوم ہوا کہ پیچھے ایک شخص بیٹھا ہو ابتا تا جاتا ہے اور یہ آگے بیان کرتے جاتے تھے۔حافظ صاحب کے حوالے بتانے سے اس نے سمجھا شاید مضمون بھی وہی بتا رہے ہیں۔تو مضمون کے لحاظ سے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے القاء کے طور پر حوالے ملتے جاتے ہیں حالانکہ اس کا خیال اور واہمہ بھی نہیں ہوتا یونہی لفظ کی سامنے آجاتا ہے اور پھر میں حافظہ سے آیت پوچھ لیتا ہوں مگر یہ پتہ نہیں لگتا فلاں آیت کس سورۃ میں ہے۔تو گو حا فظوں کی بھی کئی کمزوریاں ہوتی ہیں مگر جب نص موجود ہے تو خواہ دوسری بات کو حافظہ کی کمزوری سمجھو، خواہ نامنہمی بہر حال مقدم وہی بات ہوگی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام