خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 544

خطبات محمود ۵۴۴ سال ۱۹۳۸ء ہے نہایت خوبصورت چادر میں حضرت حسن اور حسین کے لئے بنوا کر بھیجی جائیں۔چنانچہ گورنر یمن نے جب چادر میں بھیجیں تو حضرت عمرؓ نے وہ حضرت حسن اور حسین کو پہنائیں اور فرمایا آج میرا دل ٹھنڈا ہوا ہے شے مدینہ سے یمن سات سو میل پر ہے اور اُن دنوں گھوڑوں کی سواری ہوا کرتی تھی مگر میں نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پوتوں کے لئے تم سے سات میل سے بھی کبھی کوئی چیز نہیں منگوائی۔پھر اس شخص نے اپنی گندی فطرت کا اظہار ایک اور رنگ میں بھی کیا ہے۔( معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ شخص ہمارے خاندان کی دوسری شاخ کے بعض لوگوں کے پاس جا کر بیٹھتا ہے، لکھتا ہے کہ مرزا سلطان احمد صاحب جیسا زانی جس مقبرہ میں داخل ہو جائے اُس مقبرہ کو کون کہہ سکتا۔کہ وہ بہشتی مقبرہ ہے۔ہم کہتے ہیں تم کچھ کہو جسے خدا نے تو بہ کی توفیق عطا فرما دی ہو اس کے خواہ کتنے بڑے گناہ ہوں خدا اُن سب کو معاف کر دیتا ہے۔ایک صحابی کہتے ہیں ہم اسلام لانے سے پہلے رات دن زنا کرتے اور شراب نوشی میں مشغول رہتے تھے تو جب تک وہ سلسلہ سے باہر تھے ہم ان کے افعال کے ذمہ دار نہیں تھے مگر جب اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات سے کچھ عرصہ قبل سلسلہ میں داخل ہونے اور توبہ کرنے کی توفیق عطا فرما دی تو ہم کون ہیں جو اللہ تعالیٰ کی بخشش کو محدود قرار دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں بندہ کی تو بہ اللہ تعالیٰ اُس کی وقت تک قبول کرتا ہے مَالَمْ يُغَرُ غِرُ جب تک اسے غرغرہ شروع نہ ہو۔اگر غرغرہ موت کی سے ایک منٹ پہلے بھی وہ تو بہ کر لیتا ہے تو جنتی ہو جاتا ہے۔مرزا سلطان احمد صاحب کو تو غرغرہ موت سے بہت پہلے اللہ تعالیٰ نے تو بہ نصیب کر دی تھی۔پھر میں کہتا ہوں زنا کیا اگر ساری دنیا کے گناہ بھی کوئی شخص کرے اور پھر بچے دل سے تو بہ کرے تب بھی اُس کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کی کوئی حد بست نہیں۔پس ہمیں کسی کے اعمال میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہمیں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ جب کوئی شخص تو بہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے۔پھر وہ لکھتا ہے وہ تو پنجتن میں نہیں۔میں کہتا ہوں کہ جو پختن ہیں تم نے اُن کی کون سی عزت کی ہے۔تم ہی ایک خط میں پہلے لکھ چکے ہو کہ ہم تمہاری قبریں بہشتی مقبرہ سے اُکھیڑ کر نعشوں کو باہر پھینک دیں گے۔