خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 545

خطبات محمود ۵۴۵ سال ۱۹۳۸ء پس تم نے پنجتن کا کونسا ادب کیا ہے جو کہتے ہو کہ مرزا سلطان احمد صاحب چونکہ پنجتن میں نہیں اس لئے ان کی نسبت اس قسم کی بات کہنے میں کوئی حرج نہیں۔اس کا بغض میری ذات کی نسبت اس طرح ظاہر ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے کہیں خلافت جو بلی فنڈ کی تحریک کر دی اب اس دن سے وہ بے چارے بھی تختہ مشق بنے ہوئے ہیں اور ہر خط میں مجھے پر جو اعتراضات ہوتے ہیں ان میں چوہدری صاحب بھی شامل ہوتے ہیں اور کئی خطوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ مرزا سلطان احمد اور چوہدری ظفر اللہ خاں جیسے گندے آدمی جس مقبرہ میں دفن ہو سکیں وہ مقبرہ بہشتی مقبرہ کہاں کہلا سکتا ہے۔اسی طرح اور بھی کئی قسم کے اعتراض چوہدری صاحب پر کئے جاتے ہیں۔خلافت جو بلی فنڈ کی تحریک سے پہلے تو اسے چوہدری صاحب میں کوئی عیب نظر نہ آیا مگر ادھر انہوں نے تحریک کی اور ادھر سے ان میں سو سو کیڑے نظر آنے لگ گئے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی شخص ایک صداقت پر اعتراض کرتا ہے تو پھر اس کا قدم ٹھہرتا نہیں بلکہ اور دوسری صداقت پر بھی اس کے اعتراض کی زد پڑنی شروع ہو جاتی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ روپے کے بارے میں اگر مجھ پر اعتراض کیا جاتا ہے تو یہ مجھ پر ہی نہیں بلکہ پہلوں پر بھی پڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی ہو بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ہوا۔حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت تقسیم کرنے لگے ایک شخص آپ کے پیچھے آکر کھڑا ہو گیا اور آپ کو غنائم کے اموال تقسیم کرتے دیکھتا رہا۔جب آپ تمام اموال تقسیم فرما کی چکے تو کہنے لگا۔یہ ایک ایسی تقسیم ہے جس میں خدا تعالیٰ کی رضامندی مد نظر نہیں رکھی گئی - هذه قِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجُهُ الله لا تقسیم ایسی ہوئی ہے جس میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو آپ نے اسے فرمایا۔افسوس تیری حالت پراگر میں انصاف کو مد نظر نہیں رکھوں گا تو پھر اور کون انصاف کرے گا۔پھر آپ نے فرمایا۔اس شخص کی نسل اور ہم خیالوں میں سے کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کی کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا ، وہ نمازیں پڑھیں گے مگر ان کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، وہ کچ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار میں سے نکل جاتا ہے۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی یہ اعتراض ہوا اور تاریخوں میں تو صرف ایک واقعہ کا ذکر آتا ہے۔