خطبات محمود (جلد 19) — Page 543
خطبات محمود ۵۴۳ سال ۱۹۳۸ء وہ جاتا رہتا اور کئی احمدی ان مالدار ہندوؤں کے دست نگر ہو جاتے۔پھر احمدی قانون جس رنگ میں ہم اپنی جماعت پر اس وقت جاری کر رہے ہیں وہ دوسری صورت میں نہ کر سکتے اس لئے کہ احمدیوں میں سے بہت سے لوگ ان کے دست نگر ہو جاتے مگر ذاتی فائدہ یقینا ہمیں بہت زیادہ ہوتا۔غرض اپنی زمینوں کو فروخت کر کے ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم دلائی ہے اور جب زمینیں ہم نے اپنی فروخت کی ہیں تو یہ سمجھ میں نہیں آسکتا کہ جماعت کیونکر غریب ہوگئی۔دنیا میں ہر شخص اپنی جائداد میں فروخت کرنے کا حق رکھتا ہے اور کئی لوگ ہیں جو جائداد میں فروخت کر کے اپنے ہوں کو تعلیم دلاتے ہیں۔پس اگر ہم نے بھی اپنے بچوں کو جائداد کا ایک حصہ فروخت کر کے تعلیم دلا دی تو اس سے ان کا نقصان کیا ہوا۔مگر ان کا اعتراض کرنا بتاتا ہے کہ در پردہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد سے بغض ہے اور وہ اتنا بھی پسند نہیں کر سکتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی پوتا تعلیم حاصل کرے خواہ اپنے خرچ پر ہی کرے حالانکہ صحابہ کے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں جب گزارے مقرر ہوئے اور یہ سوال پیدا ہوا کہ گزاروں کی تعیین کس رنگ میں ہونی چاہئے تو انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ الْأَقْرَبُ فَالْاَ قْرَبُ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو شخص جتنا زیادہ قریب ہے اُتنا ہی اُسے زیادہ دیا جائے۔چنانچہ بارہ ہزار دینار سالانہ حضرت عباس کا مقرر ہوا، دس دس ہزار وظیفہ امہات المؤمنین کا مقرر ہوا پھر سات سات ہزار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے قریبی رشتہ داروں کا، پھر پانچ پانچ ہزار بدری صحابہ کا، پھر چار چار ہزار دینار فی کس ان صحابہ کا مقرر ہوا جو فتح مکہ تک مسلمان ہو چکے تھے ، پھر تین تین ہزار وظیفہ ان کا مقرر ہوا جو جنگ یرموک تک مسلمان ہوئے تھے، اس طرح کم ہوتے ہوتے آخری فتوحات میں جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے ان کی کا سوسو اور دو دو سو سالانہ وظیفہ مقرر کیا گیا۔2 حضرت عمرؓ کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ تحائف کے طور پر باہر سے بہت سے کپڑے آئے آپ نے وہ تقسیم کئے۔مگر فرمایا حسن اور حسین کے لئے ان میں سے کوئی ایسا کپڑا اچھا نہیں جو انہیں دے کر میرا دل خوش ہو چنانچہ آپ نے گورنر یمن کو خاص طور پر لکھا کہ