خطبات محمود (جلد 19) — Page 542
خطبات محمود ۵۴۲ سال ۱۹۳۸ء۔زمین خرید سکتے ہیں غیروں کو زمین نہیں دی جا سکتی تو جس ایکڑ کا آج ہمیں ہزار دو ہزار روپیہ ملتانی ہے اسی ایکڑ سے ہمیں دس ہیں ہزار روپیل جائے۔یہ ایک ایسی سیدھی سادی بات ہے کہ جسے ذرا بھی تجربہ ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ صحیح ہے۔یہاں منڈی کے لئے ہم نے تجویز کی تو پانچ سات ہندو ہم سے کہتے تھے کہ ہمیں یہاں کی زمین کا حق ملکیت دے دیا جائے ہم یہاں آنے کے لئے تیار ہیں مگر ہم نے دیکھا کہ اس میں سلسلہ کا نقصان ہے اس لئے انہیں کہا تم اگر چاہو تو کرایہ دار کی کی حیثیت سے رہو۔حقوق مالکانہ ہم تمہیں نہیں دیں گے مگر وہ حق ملکیت لینے پر اصرار کرتے تھے اور اس طرح بات رہ گئی۔حالانکہ اگر ہم سلسلہ کے مفاد اور اس کی ترقی کا خیال نہ رکھیں تو ہمیں بہت زیادہ قیمتیں ہندوؤں اور سکھوں سے مل سکتی ہیں تو ہمارے اس فعل کی وجہ سے ہماری زمینوں کی قیمتیں بہت گری ہوئی ہیں۔ورنہ اگر دو سال کے لئے ہی ہم اس شرط کو اُڑا دیں اور کی ہندوؤں اور سکھوں کو زمینیں دینی شروع کر دیں تو قادیان کی زمینوں کی چار یا پانچ گنا قیمت بڑھ جائے۔قادیان تو بہت بڑھتی ہوئی جگہ ہے۔تم و ڈالہ گرنتھیاں کو ہی دیکھ لو پہلے وہ بھاں بھاں کرتا ہوا ایک گاؤں تھا مگر اب وہاں کارخانے کھل گئے ہیں اور کئی ہندو اور سکھ وہاں آ کر آباد ہو گئے ہیں۔اب تو ریل یہاں آکر ختم ہو گئی ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی تجارت کی مار میں ہیں میل پر پڑتی ہے۔مشرق اور شمال کی طرف اور کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں منڈی بن سکے۔پس یہاں کی تجارت کا ہیں ہیں میل پر اثر پڑ سکتا ہے اور کروڑوں کی تجارت یہاں ہوسکتی ہی ہے۔بٹالہ کے کئی ہندوؤں نے ہم سے خواہش کی کہ ہمیں قادیان میں زمین دی جائے ہم وہاں اپنے کارخانے کھولنا چاہتے ہیں مگر ہم نے سوچا کہ اس میں گو ہمارا ذاتی فائدہ ہے مگر احمدیت کا نقصان ہے اور ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ احمدیت کو نقصان ہو اس لئے انکار کر دیا۔اگر ہم انہیں آنے کی اجازت دے دیتے تو جس زمین کی قیمت آج سو روپے ہے اس کی ہزار روپیہ ہوتی اور دس دس میل تک جس قدر ہندو ساہوکار تا جر اور کارخانہ دار ہیں وہ یہاں جمع ہو جاتے۔میرا خیال ہے کہ اگر اس کی اجازت دی جاتی تو چار پانچ سو ہندو تاجر اس وقت تک قادیان میں جمع ہو چکا ہوتا اور ان کی وجہ سے ہماری زمینیں نہایت گراں قیمت پر فروخت ہوتیں۔پس گو ہمیں اس کا فائدہ رہتا مگر یہ ضرور ہوتا کہ احمدیت کو جو یہاں غلبہ حاصل ہے