خطبات محمود (جلد 19) — Page 541
خطبات محمود ۵۴۱ سال ۱۹۳۸ء پھر بعض لوگ ہم پر اعتراض کرتے اور کہتے ہیں کہ تم نے اپنے نفع کے لئے قادیان میں زمینوں کی قیمتیں بہت بڑھا رکھیں ہیں حالانکہ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہم نے زمین کی قیمتیں گرائی ہوئی ہیں، بڑھائی ہوئی نہیں۔۱۹۱۴ء میں جب پہلی دفعہ محلہ دار الفضل کے لئے ہم نے اپنی زمین فروخت کی تو وہ قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ کے لئے کی تھی اور کی تین ہزار روپیہ اس طرح جمع کیا تھا۔چنانچہ وہ زمین فروخت کر کے ہم نے پہلے پارے کا ترجمہ چھپوایا اور صدر انجمن احمدیہ کو دے دیا۔اس وقت بعضوں نے کہا بھی کہ آپ ابھی یہ زمین نہ بیچیں کچھ عرصہ کے بعد زمین کی قیمت بہت بڑھ جائے گی اس وقت فروخت کر دیں لیکن میں نے کہا کہ اول اس وقت قرآن کریم کی اشاعت کی ضرورت ہے اس کے لئے ہر قربانی کرنا ہمارا کی فرض ہے اور دوسرے قیمت کے زیادہ ہونے کا انتظار کرتے رہیں گے تو قادیان کی ترقی کس طرح ہو گی۔چنانچہ اس وقت نہایت سستے داموں پر ہم نے یہ زمین فروخت کر دی۔پھر لوگ کہتے ہیں زمینوں کے بارہ میں غیروں سے سختی کی جاتی ہے حالانکہ قادیان میں جس قد ر آبادی ہے اتنی آبادی اور کسی شہر میں ہو تو وہاں کبھی اس قیمت پر زمینیں نہ ملیں جس قیمت پر ہم یہاں دیتے ہیں۔اور شہروں میں پھر کر دیکھ لیا جائے جتنی بستی قادیان کی ہے اتنی بستی اگر کوئی اور ہوگی تو وہاں یہاں کی نسبت بہت زیادہ زمین کی قیمت ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ہندو چلے جاتے ہیں اور منڈیوں اور تجارت کی وجہ سے زمینوں کی قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔ہم اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہندوؤں کو قادیان میں زمینیں نہیں لینے دیتے حالانکہ اگر ہم اس پابندی کو اڑا دیں اور ہندوؤں کے لئے بھی زمین خریدنے کا رستہ کھول دیں تو دو سال کے اندر اندر موجودہ قیمتوں سے چار پانچ گنا قیمت بڑھ جائے۔قادیان ایک بڑھتا ہو ا شہر ہے اگر ہم اجازت دے دیں تو سینکڑوں ہندو یہاں آکر آباد ہو جائیں۔چنانچہ بیسیوں دفعہ سری گوبند پور اور بٹالہ وغیرہ کے سیٹھ اِس امر کی کوشش کر چکے ہیں کہ اُنہیں یہاں زمین مل جائے۔ہندوؤں کے پاس روپیہ ہوتا ہے اس لئے وہ جہاں جائیں گے زمین کی قیمت بڑھ جائے گی۔منٹگمری میں بعض چھوٹی چھوٹی جگہیں ہیں جیسے عارف والا مگر ان کی قیمتیں قادیان سے بہت زیادہ ہیں اور اگر ہم سلسلہ کے نظام اور احمدیت کے قیام کی خاطر یہ شرط نہ رکھیں کہ یہاں صرف احمدی ہی