خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 540

خطبات محمود ۵۴۰ سال ۱۹۳۸ء اور اس پر صدر انجمن کا روپیہ خرچ ہوا ہے تو میں اُس دوست سے کہوں گا کہ اب اگر آپ کا نام ظاہر کر دیا جائے تو اس میں آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ان بینکوں کے نام جن کی معرفت اسے روپیہ جاتا رہا۔روپیہ بھیجنے والے دوست کا نام اور اسی طرح کی اور تمام باتیں ہمارے علم میں ہیں اور ہم بوقت ضرورت ان کا اظہار کرنے کے لئے تیار ہیں۔پس میں نہیں سمجھتا کہ جماعت اس وجہ سے غریب کس طرح ہو گئی اور اگر سلسلہ کے لئے چندہ لینے کی وجہ سے جماعت غریب ہو گئی ہے تو جیسے دوسروں سے میں نے چندہ لیا ہے اسی طرح خود بھی چندہ دیا کی ہے پس وہ غریب ہو گئے اور میں بھی غریب ہو گیا مگر دنیا کی نظر میں ہم غریب ہوئے خدا کی نگاہ میں غریب نہیں ہوئے بلکہ ہم میں سے ہر شخص جو مؤمن ہے سمجھتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کر کے مالدار بن گیا ہوں کیونکہ جب ہمیں اس کے رستہ میں اپنے اموال قربانی کرنے کی توفیق مل گئی تو یہی بڑی سعادت اور بڑی عزت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ان باتوں کے کہتے ہوئے شرم آتی ہے اور محض منافقوں کے کی اعتراضات کا جواب دینے کے لئے کہنی پڑتی ہیں۔ورنہ ہم نے جو کچھ دیا ہے اپنے خدا کے لئے دیا ہے، کسی بندہ کے لئے تھوڑا دیا ہے۔میں نے اگر اس کی راہ میں کچھ روپیہ دیا ہے تو وہ میرے رب کی ایک چیز تھی اس نے مطالبہ کیا اور میں نے اس کا ایک حصہ دے دیا میں شرمندہ ہوں کہ میں نے سارا نہیں دیا اور جو حصہ دیا ہے اُس کا ذکر بھی میں کبھی نہ کرتا اگر منافق مجھ پر اعتراض نہ کرتے۔تو وہ کہتے ہیں اور بار بار اپنے خطوں میں لکھتے ہیں کہ میں جماعت کا روپیہ کھا گیا۔میں ان سے کہتا ہوں انجمن کے رجسٹر موجود ہیں کیا کوئی شخص ثابت کر سکتا ہے کہ میں نے ایک پیسہ بھی کھایا ہے۔کہا جاتا ہے کہ تم سینکڑوں روپیہ ماہوار اپنی بیویوں کے لئے اور ہزاروں روپیہ ماہوار اپنے بچوں کے لئے لیتے ہو جماعت یہ روپیہ دیتی دیتی کنگال ہوگئی حالانکہ میں نہ سینکڑوں روپیہ بیویوں کے لئے لیتا ہوں نہ ہزاروں روپیہ بچوں کے لئے اور یہ جو کچھ کہا گیا ہے بالکل جھوٹ اور افتراء ہے۔ہمارے چار بچے بیشک ولایت تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے تین کے لئے ہم نے اپنی زمینیں فروخت کیں اور ایک کو ایک دوست نے اپنے خرچ پر بھیجا۔