خطبات محمود (جلد 19) — Page 539
خطبات محمود ۵۳۹ سال ۱۹۳۸ء میاں شریف احمد صاحب نے اپنے لڑکے کو بھیجا تو انہوں نے اپنے حصہ کی زمین فروخت کی اور میاں بشیر احمد صاحب نے اپنا لڑ کا بھیجا تو انہوں نے اپنے حصہ کی زمین فروخت کی صرف میں نے اپنے لڑکے کے لئے کوئی زمین نہیں بیچی مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ اس پر جماعت کا خرچ ہوا۔اس پر بھی جماعت کا ایک پیسہ خرچ نہیں ہوا بلکہ بات یہ ہوئی کہ جب میرے بھائیوں نے اپنے لڑکوں کو ولایت بھیجنے کے خیال کا اظہار کیا تو ہماری جماعت کے ایک مخلص دوست نے مجھے میرے لڑکے کے متعلق لکھا کہ چونکہ بڑے ہو کر اس نے دین کی خدمت کرنی ہے اس لئے میرا ارادہ کی ہے کہ اسے اپنے خرچ پر ولایت بھجوا دوں تا کہ اسے تجربہ حاصل ہو جائے۔چونکہ پہلے لڑکوں کے لئے تو ہم نے زمینیں فروخت کرنی تھیں اگر اس کے لئے بھی کوئی زمین فروخت کی جاتی تو یہ بار مشکل سے سہارا جا سکتا اس لئے میں نے اپنے بچہ کو سمجھا دیا تھا کہ تم دل میں کوئی اور خیال نہ کی لا نا کہ اوروں کو تو ولایت بھیجا جا رہا ہے مگر مجھے نہیں بھیجا جاتا کیونکہ تمہارے بھائیوں کے جانے کی صورت میں ایک وقت اس قدر رو پیہ جمع نہیں کیا جاسکتا اور وہ بالکل اس پر خوش تھا۔لیکن اس دوست نے لکھا کہ میری نیت یہ ہے کہ میں اپنا روپیہ خرچ کر کے آپ کے بچہ کو ولایت تعلیم دلاؤں اور اسے ولایت بھیجوں۔تب میں نے انہیں لکھا کہ میری غیرت اسے برداشت نہیں کر سکتی کہ میرے بچہ کے اخراجات آپ برداشت کریں۔انہوں نے اصرار کیا اور کی بہت اصرار کیا جس پر آخر میں نے انہیں لکھا کہ اس شرط پر میں آپ کی تجویز مان سکتا ہوں کہ آپ کا جس قدر روپیہ خرچ ہو وہ آپ میرے ذمہ اپنا قرض سمجھیں جب خدا تعالیٰ مجھے توفیق دے گا تو میں اسے اتار دوں گا۔انہوں نے کہا بہت اچھا مجھے یہ بات منظور ہے۔چنانچہ وہ ان کے خرچ پر ولایت گیا اور انہی کے خرچ پر تعلیم پاتا رہا۔مجھے اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس پر ان کا کیا خرچ ہوا اور کس قدر وہ رقم اسے دیتے رہے پس میرے بچہ کے اخراجات وہی دوست برداشت کر رہے ہیں۔انجمن کا تو ایک پیسہ بھی ہم پر حرام ہے۔باقی اخراجات کے متعلق رجسٹرات موجود ہیں۔وہ زمینیں دیکھی جا سکتی ہیں جن کو ہم نے فروخت کیا ہے اپنے بچہ کے متعلق اس دوست کا نام میں ابھی ظاہر نہیں کرتا جنہوں نے اس کے تمام اخراجات برداشت کئے ہوئے ہیں۔اگر کوئی شخص قسم کھا کر یہ کہہ دے کہ میں نے جو بات بیان کی ہے وہ غلط ہے