خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 526

خطبات محمود ۵۲۶ سال ۱۹۳۸ء عورتیں اکیلی کس طرح جائیں گی۔اس پر وہ کہنے لگا کہ اگر دو چارا اور ٹکٹ لے دیں تو کچھ مرد بھی ان کے ساتھ جاسکیں گے اور آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ہمارے وہ جو رشتہ دار تھے ہم انہیں ماموں کہا کرتے تھے۔میں نے ان سے کہا کہ ماموں ان لوگوں کی حالت قابلِ رحم ہے آپ ان کو بھی ٹکٹ لا دیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت مشکل ہے مگر میں نے اصرار کیا کہ وہ ضرور لا دیں اور میری خاطر لا دیں وہ گئے اور سترہ ٹکٹ لا کر دیئے میں نے وہ ٹکٹ کھڑکی میں سے انہیں پکڑا دیئے اور انہوں نے کھڑکی میں سے روپیہ پکڑا دیا۔جب ہم جہاز پر سوار ہونے کے لئے گئے تو وہ دروازہ پر ملے بہت ممنونیت کا اظہار کیا اور بڑی تعریف کی اور جب میں نے ان کی تعریف پوچھی تو معلوم ہوا کہ یہ وہ دوسرے شخص تھے جنہوں نے ہمیں مروانے کی کوشش کی تھی اور جو کہتے تھے کہ ان کا یہاں آنے کا کیا حق ہے اس پر وہ بھی بہت شرمندہ ہوئے۔غرضیکہ ہم حج کر کے واپس ہندوستان آگئے۔مصر جانا محض ایک بہانا ہی ہوا اور اگر اس کی وقت حج نہ ہو جاتا تو اب جس قسم کے انتظامات کی ضرورت ہے نہ اتنا روپیہ ہوتا کہ یہ انتظامات ہو سکتے اور نہ حج ہوتا اور اب تو ممکن ہے اس ملک کی حکومت ہی اجازت نہ دے۔تو کئی لوگ کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر وقت پر اسے پورا نہیں کرتے اور اس طرح ان کا نفس لنگڑا ہی رہ جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے کہ وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ وہ اس کی تعمیل نہیں کر سکتے۔بہت لوگ گناہوں میں اس لئے مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کے نفس میں قوت پیدا نہیں ہوئی ہوتی وہ الوہیت کے کام کرتے ہیں مگر اپنے نفس کو بھول جاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ایسے گڑھے میں گرتے ہیں کہ نکلا نہیں جاتا۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمیں توفیق دے کہ ہم خالق کے بھی اور مخلوق کے بھی کامل مظہر بن سکیں۔آمین‘ (الفضل ۲۵ را گست ۱۹۳۸ء) اقرب الموارد الجزء الثاني صفحه ۱۳۸ مطبوعہ بیروت ۱۸۸۹ء وَ مِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ (الذريت:۵۰) مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحہ ۲۰۰ مطبوعہ بیروت ۱۹۷۸ء الزمر : ٢٤ غربال: چھاج۔پیٹ کا ہلکا۔کم ظرف فاطر:اا