خطبات محمود (جلد 19) — Page 525
خطبات محمود ۵۲۵ سال ۱۹۳۸ء ہیں ہنسل وغیرہ کا سامان ہو رہا ہے، افسردگی طاری ہے، پتہ کیا کہ کیا بات ہے تو معلوم ہوا کہ ان کو ہیضہ ہوا اور فوت ہو گئے۔اور انہی دنوں ایک اور دوست سے ملنے گئے تو میں نے دیکھا کہ ایک ہندوستانی کو بعض لوگ کو ٹھے سے اٹھا کر نیچے گلی میں چھوڑ گئے۔وہ تڑپ رہا تھا اس نے بتایا کہ میرے پاس کچھ روپیہ تھا جو ان لوگوں نے نکال لیا اور مجھے یہاں پھینک گئے ہیں۔جہاں کی تک یاد ہے تھوڑی ہی دیر میں فوت ہو گیا۔میں نے خود لاشوں کو کتوں کو چاٹتے دیکھا ہے۔غرض کہ ایسی تباہی تھی جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے حج کرانا تھا اس لئے یہ موقع مل گیا۔ادھر ہیضہ پھوٹا اور اُدھر مصر جانے میں رُکاوٹ پیدا ہو گئی۔اس پر میں نے واپسی کا ارادہ کر لیا۔جدہ کے انگریزی قونصل خانہ میں بھی ہمارے ننھیال کے ایک رشتہ دار میر منشی تھے۔بھوپال کے جس رشتہ دار کا میں نے ذکر کیا ہے وہ تو نا نا جان مرحوم کی کے رشتہ داروں میں تھے اور یہ نانی اماں صاحبہ مرحومہ کے رشتہ داروں میں تھے۔یہ ایک عجیب کی بات ہے کہ ہمارے جتنے رشتہ دار نانا جان مرحوم کی طرف سے تھے۔وہ بالعموم مخالف تھے اور جتنے نانی اماں صاحبہ کی طرف سے تھے وہ بالعموم محبت کرنے والے تھے یہ غالباً ان کی خالہ کے لڑکے تھے اور بہت محبت کرتے تھے۔جہاز چونکہ کم تھے اور لوگ جلدی واپس ہونا چاہتے تھے اس لئے ٹکٹ ملنے میں سخت دشواری تھی۔ہم جب جدہ پہنچے تو ان سے کہا کہ جلد ٹکٹوں کا انتظام کر دیں تا پہلے جہاز میں واپس ہو سکیں۔انہوں نے جہاز ران کمپنی کے دفتر میں بٹھا دیا یہ کمرہ بہت اونچا تھا۔اتنے میں ایک دبلا پتلا آدمی نیچے آیا۔میں کھڑکی میں بیٹھا تھا اور وہاں ہاتھ بمشکل اونچا کر کے پہنچ سکتا تھا ہجوم اور شور بہت تھا اور ہر طرف سے ٹکٹ ٹکٹ کا شور بلند ہو رہا تھا مگر وہ مجمع کو چیر تا پھاند تا کھڑکی کے نیچے پہنچا اس نے خیال کیا کہ شاید میں کمپنی کا ملازم ہوں۔مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ کمپنی میں کام کرتے ہیں۔میں نے کہا میں تو مسافر ہوں تو پھر آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں۔میں نے کہا میرے ایک عزیز یہاں بٹھا گئے ہیں اور ٹکٹوں کی خرید کا انتظام کر رہے ہیں۔اس پر وہ کہنے لگے کہ ہما را چالیس، پینتالیس عورت اور مردوں کا قافلہ ہے، بڑی مصیبت کا سامنا ہے مگر ہمیں سب سے زیادہ فکر عورتوں کی ہے۔اگر آپ دس بارہ ٹکٹ خرید دیں تو ہم عورتوں کو یہاں سے نکال دیں اور مردوں کے ساتھ جو گزرے گی کاٹیں گے۔میں نے کہا کہ