خطبات محمود (جلد 19) — Page 527
خطبات محمود ۵۲۷ ۲۷ سال ۱۹۳۸ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک واضح پیشگوئی اور اس کا ظہور فرموده ۱۹ راگست ۱۹۳۸ ء ) * تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب کوئی شخص ایک صداقت پر اعتراض کرتا ہے تو وہ لازما آہستہ آہستہ دوسری صداقتوں پر بھی اعتراض کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جس قدر اعتراضات لوگوں نے کئے وہ سارے ایسے ہی تھے جو دوسرے انبیاء پر بھی پڑتے تھے اور جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مثال دیتے اور فرماتے کہ دیکھو یہ اعتراض تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑتا ہے یا حضرت عیسی علیہ السلام پر بھی پڑتا ہے یا حضرت موسیٰ علیہ السلام پڑتا ہے۔تو وہ لوگ گالیوں پر اتر آتے اور کہتے کہ آپ انبیاء کی ہتک کرتے ہیں حالانکہ جب ایک شخص ایک صداقت کا مدعی ہے اور وہ اپنے آپ کو اس کی کڑی کے طور پر پیش کرتا ہے تو لازماً حمد اس خطبہ کے متعلق بعض دوستوں کے خطوط مجھے ملے ہیں جن میں سے ایک نے یہ شکوہ کیا ہے کہ منافق تو جماعت میں بہت کم ہیں۔کوئی ایک دو ہوں گے پھر آپ ایسے خطبے کیوں پڑھتے ہیں۔اس طرح لوگوں کو خیال ہوتا ہے شاید بہت سے لوگ ہوں گے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو میں خود کہہ چکا ہوں کہ چند ہی لوگ ہیں لیکن کسی گندے خیال کی نسبت یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ایک کا ہے۔اس کا رڈ کرنا آئندہ نسلوں کے لئے مفید ہوسکتا ہے اس لئے