خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 446

خطبات محمود ۴۴۶ سال ۱۹۳۸ء میں یہ خیال آتا ہوگا۔کہ اس نوجوان نے اپنی جان ضائع کی اور سلسلہ کو بدنام کیا لیکن جو کام کیا اپنے نفس کے لئے نہیں کیا بلکہ اس غلط خیال کے ماتحت کیا کہ میں سلسلہ کی خدمت کر رہا ہوں اس لئے خدا تعالیٰ اس کی تو بہ کو قبول ہی کرے۔حق یہ ہے کہ اگر ہمارے نو جوانوں کے اندر یہ روح پیدا ہو جائے کہ جب کسی کو گالیاں دیتے سنیں تو اُٹھ کر اُس پر حملہ کر دیں تو اس کا دوسرے لوگوں کو اتنا نقصان نہیں ہو سکتا جتنا ہمیں نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ وہ تو کروڑوں ہیں اگر ان میں سے دو چار مر جائیں تو انہیں زیادہ نقصان نہیں پہنچ سکتا لیکن ہمیں ایسے واقعات سے شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے کیونکہ ہماری بدنامی ہوگی، ہماری دینی روح کمزور ہوگی اور نو جوانوں کا ایک حصہ ضائع ہو گا۔پس ہمارا فرض ہے کہ ان باتوں کو روکیں اور اگر کوئی کسی کو قتل کی انگیخت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دوسرے کو مار دینے میں کوئی حرج نہیں تو ہم یقیناً اسے قومی دشمن کہیں گے۔چاہے اس نے کی دانستہ ایسا کہا ہو یا نا دانستہ جو شخص بھی کہتا ہے کہ ہمارے بعض نوجوانوں نے یہ اچھا فعل کیا وہ یقیناً ہمارے سلسلہ کا دشمن ہے کیونکہ اس سے دشمن کو اتنا نقصان نہیں پہنچ سکتا جتنا ہمیں پہنچ سکتا ہے۔اگر ہمارے دلوں میں سلسلہ کی ایک ذرہ بھر بھی محبت ہو تو ہمارا فرض ہے کہ ہمارے بڑے بھی اور چھوٹے بھی ، عالم بھی اور جاہل بھی ، مرد بھی اور عورتیں بھی یہ پختہ عہد کر لیں کہ وہ ایسے افعال کو روکنے کی انتہائی کوشش کریں گے اور اس بات کی جد و جہد کریں گے کہ آئندہ کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہو۔لیکن باوجود اس ضرورت کو سمجھنے کے میاں عزیز احمد سے احمدی نفرت نہیں کر سکتے تھے ان کے دماغ کے پس پردہ یہ خیالات موجزن ہونگے کہ انہوں نے گوا یک ناجائز فعل کیا مگر خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا، کسی ذاتی غرض یا د نیوی فائدہ کے لئے نہیں کیا۔ان کی ماں کمزور اور بوڑھی تھی وہ اس کی تکلیف کو سمجھ سکتے تھے۔چنانچہ اب ان کی موت کے بعد جو اس غریب کی کیفیت ہے، اسے دیکھ کر ہر شخص کو رحم آتا ہے۔بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب میاں عزیز احمد صاحب کا وہ ذکر کرتی ہے تو اپنی مٹھیاں بھینچ لیتی ہے منہ سے لفظ نکلنے بند ہو جاتے ہیں اور سر سے لے کر پیر تک تھر تھر کانپنے لگ جاتی ہے۔غرض اسے دیکھ کر دل رحم سے بھر جاتا ہے مگر عزیز احمد کو یہ کوئی خیال نہیں آیا کہ اُس کے اس کی