خطبات محمود (جلد 19) — Page 447
خطبات محمود ۴۴۷ سال ۱۹۳۸ء فعل کے نتیجہ میں اُس کی ماں کا کیا حال ہوگا ؟ اُس کے بھائی کا کیا حال ہو گا ؟ وہ جذبات کی رو میں بہہ گیا اور وہ دنیا کا مجرم ، قانون کا مجرم اور خدا کا مجرم بن گیا لیکن بہر حال اس نے یہ فعل کسی دنیوی غرض سے نہیں کیا بلکہ محض اس لئے کیا کہ اپنے مذہب کے خلاف گالیاں سننا میری برداشت سے باہر ہے۔پس ان خیالاات کا احمدیوں کی طبیعت پر اثر ہوگا جو ان کو جنازہ پر لے گیا۔یہ کہ ہر شخص کے کیا خیالات تھے یہ تو اسی سے پوچھ کر معلوم ہو سکتے ہیں لیکن میں یہی سمجھتا ہوں کہ اکثر احمدیوں کے دلوں پر مذکورہ بالا خیالات کا اثر ہو گا اور گومعین صورت میں یہ خیالات ان کے دماغ میں نہ آئے ہوں۔مگر جب وہ جنازے پر گئے تو ان کے سبجیکٹو مائنڈ ( SUBJECTIVE MIND) میں ضرور یہ خیالات پیدا ہورہے ہونگے کہ میاں عزیز احمد نے بُرا فعل کیا، ان کے فعل کی وجہ سے جماعت بدنام ہوئی مگر انہوں نے اپنے نفس کی وجہ سے یا جماعت کو بد نام کرنے کے خیال سے ایسا نہیں کیا بلکہ محبت کے غلط جوش میں ایسا کیا۔ہمارے مخالفوں نے اپنا حق لے لیا اور جان کے بدلے جان دے دی گئی ، قانون نے اپنا حق لے لیا کہ مجرم کو پھانسی پر لٹکا دیا، اب ہمارے دلوں کی باری ہے کہ انہیں بھی ان کا حق دیا جائے اور انہوں نے زبانِ حال سے ان کی نعش کو کہا کہ اے بھائی ! تو نے قانون کا قصور کیا ،تو نے شریعت کا قصور کیا ، تو نے نادانی سے جماعت کو بدنام کیا لیکن کسی ذلیل خواہش سے ایسا نہیں کیا بلکہ تو نے نادانی سے یہ خیال کیا کہ میں اس طرح دین کی خدمت کر رہا ہوں۔ہم تیرے اس فعل کو بُرا کہہ چکے ہیں کہ تو نے دین اور قانون کے خلاف فعل کیا مگر اب جب کہ تو اپنی سزا بھگت چکا ہے ہم تیرے دین کی خاطر قربانی کرنے کے جذبہ پر عقیدت کے پھول چڑھانے آئے ہیں کیونکہ ہر ایک کا حق اسے ملنا چاہئے۔ہمارا دماغ تیری پھانسی سے اپنا حق لے چکا۔اب ہمارا دل تیرے لئے مغفرت کی دعا کر کے اپنا حق لینا چاہتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اسی قسم کے جذبات تھے جو لوگوں کو کھینچ کر لائے اور اگر وہ اپنے دلوں میں ایسے افعال کو بُرا سمجھتے تھے، اگر وہ ارادہ رکھتے تھے کہ ایسے افعال آئندہ کبھی نہیں ہونے دیں گے تو وہ ہرگز مجرم نہیں تھے بلکہ وہ کامل انصاف چاہتے تھے کیونکہ وہ قانونی قضاء کا حق دینے