خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 445

خطبات محمود ۴۴۵ سال ۱۹۳۸ء کہ میرا بیٹا مجھ سے منتیں کرتا تھا اور کہتا تھا ماں میری لاش پر روئیو نہیں۔میں نے جو گناہ کیا تھا اس کی تی سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں اب تم دشمن کو خوشی کا موقع نہ دینا۔ان واقعات کے ہوتے ہوئے جذباتی قضاء کب غیر متاثرہ رہ سکتی ہے فتح مکہ کے وقت ایک انصاری نے جو ایک دستہ فوج کے افسر تھے اور جن کا نام غالباً عبادہ بن صامت تھا ابو سفیان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب دیکھو مکہ میں چل کر ہم تمہاری کیسی خبر لیتے ہیں اور جو جو تکلیفیں تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو پہنچائی ہیں ان کا کس طرح انتقام لیتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ نے اسے فوج کی کمانڈ سے علیحدہ کر کے معمولی سپاہی بنا دیا اور اس کے بیٹے کو اس کی جگہ افسر مقرر کر دیا۔2 لیکن کیا تم سمجھتے ہو یہ الفاظ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں حضرت عبادہ کے متعلق نفرت کا جذبہ پیدا ہوا ہوگا۔آخر عبادہ کو ابوسفیان سے کیا عداوت تھی۔وہ کفر کے زمانہ میں شائد ابوسفیان کا نام بھی نہ جانتے ہوں گے مگر جب اسلام لانے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ مکہ والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو کیا کیا اذیتیں پہنچائی ہیں تو ان کا دل جوش سے بھر گیا اور فتح مکہ کے وقت غلطی سے ان کے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے کہ اب دیکھو گے ہم تم سے کس طرح انتقام لیتے ہیں۔پس گو انہوں نے یہ الفاظ کہے اور غلط طور پر کہے۔مگر کون شخص کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے یہ الفاظ اپنی ذات کے لئے کہے۔انہوں نے یہ الفاظ محض اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جوش میں کہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں سزا دی اور اتنی سخت سزا دی کہ انہیں افسری سے ہٹا کر سپاہی بنا دیا۔آج اگر کسی جرنیل کو سپاہی بنا دیا جائے تو وہ فوراً استعفیٰ دیکر بھاگ جائے مگر انہوں نے خوشی سے اس سزا کو قبول کیا ج لیکن تم کیا سمجھتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ان کے متعلق نفرت کے جذبات پیدا ہوئے ہونگے ؟ یا کوئی بھی مسلمان ہے جو یہ واقعہ پڑھ کر عبادہ بن صامت سے نفرت کر سکے؟ وہ ان کے فعل کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے گا۔وہ ان کے فعل کو روکنے کی کوشش کرے گا مگر وہ اس امر کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ انہوں نے اپنے لئے نہیں بلکہ گو نادانی سے کیا مگر پھر بھی خدا کے لئے فعل کیا۔اسی طرح احمدی جب میاں عزیز احمد صاحب کا خیال کرتے ہونگے تو لازماً ان کے دل