خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 436

خطبات محمود ۴۳۶ سال ۱۹۳۸ء تو جس کے متعلق امام نے خود حد لگوائی ہو اس کا جنازہ پڑھنا اس کے لئے جائز نہیں لیکن وہ کہتے ہیں امام کے علاوہ دوسروں کو پھر بھی جائز ہے کہ اس کا جنازہ پڑھیں۔پس میں نے جو کیا وہ احوط سے احوط مذہب ہے۔اور میں نے تو اس بات پر عمل کیا جو سب سے زیادہ سخت ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک ہر صورت میں نماز جنازہ جائز ہے، خواہ امام نے حد لگوائی ہو یا نہ لگوائی ہو۔شوافع کا مذہب بھی یہی ہے۔اسی طرح حنبلیوں اور مالکیوں کا بھی یہی مذہب ہے کہ اہل کبائر کا جنازہ جائز ہے۔صرف امام مالک نے ان سے اختلاف کیا ہے اور امام مالک نے اپنے اس اختلاف کی بنیا د اسی حدیث پر رکھی ہے۔جو ماعز کے متعلق میں بیان کر چکا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ کے جنازہ میں شامل نہیں ہوئے البتہ آپ نے دوسروں کو روکا بھی نہیں۔پس وہ کہتے ہیں کہ جب امام خود حد لگوائے تو وہ جنازہ نہ پڑھے مگر دوسروں کو جنازہ پڑھنے سے وہ بھی نہیں روکتے۔اب بتاؤ جس امر کے متعلق تمام اہلحدیثوں ، تمام حنفیوں ، تمام شافیوں، تمام مالکیوں اور تمام حنبلیوں کا فتویٰ ہے کہ وہ جائز ہے اس پر یہ احرار کیا اعتراض کر سکتے ہیں اور یہ کونسے نئے صحابی پیدا ہو گئے ہیں کہ اسلام اور قرآن کی پر اپنی حکومت جتانے لگ گئے ہیں۔اس پٹھان کے متعلق تو کہہ سکتے تھے کہ کم از کم کوئی فقہ کی کتاب اس کی تائید میں تھی مگر ان کی تائید تو کسی حدیث اور کسی فقہ کی کتاب سے نہیں ہوتی بلکہ حق یہ ہے کہ میں نے امام مالک سے بھی زیادہ احتیاط اس بارے میں کی ہے اور وہ اس طرح کی کہ امام مالک یہ کہتے ہیں کہ جس کو امام شریعت کے احکام کے مطابق حد لگوائے اس کا وہ جنازہ نہ پڑھے لیکن میں نے اس شخص کا جنازہ بھی نہیں پڑھا جسے میں نے حد نہیں بلکہ انگریزی حکومت نے جو کا فر ہے حد لگائی تھی۔پس امام مالک کے فتویٰ کے مطابق اگر میں میاں عزیز احمد صاحب کا جنازہ پڑھا دیتا تب بھی میرے لئے جائز تھا کیونکہ ان پر کسی اسلامی حکومت نے حد قائم نہیں کی۔بلکہ ان سے قصاص انگریزی حکومت نے لیا جو غیر اسلامی حکومت ہے مگر میں نے اتنا بھی نہ کیا۔پس امام مالک جنہوں نے اس بارہ میں سب سے زیادہ سخت پہلولیا ہے میں نے ان سے بھی سخت تر پہلو لیا اور ایک کا فر گورنمنٹ کے فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔