خطبات محمود (جلد 19) — Page 437
خطبات محمود ۴۳۷ سال ۱۹۳۸ء اگر احرار کو اس پر اعتراض ہے تو پہلے سب حدیثوں اور فقہ کی کتابوں کو رد کر دیں اور کہہ یں کہ یہ سب جھوٹی ہیں ، اب ہم نئے مولوی پیدا ہو گئے ہیں اور ہم بتا ئیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کرنا چاہئے تھا۔اس طرح پہلے وہ ایک نیا دین ایجاد کریں پھر جو لوگ اس دین کو مان کر اس پر عمل نہ کریں تو ان پر اعتراض کریں۔ہم تو ان کے اس دین پر ہیں ہی نہیں۔وہ ہم پر کیوں اعتراض کرتے ہیں۔ہم تو اہلِ سنت ہیں اور سب سے پہلے قرآن کو مانتے ہیں پھر سنت کو مانتے ہیں، پھر حدیثوں کو مانتے ہیں۔اس مسئلہ کے متعلق قرآن کریم میں کی بالبداہت کوئی آیت موجود نہیں ممکن ہے اگر غور کیا جائے تو کوئی اشارہ مل جائے مگر نص موجود نہیں لیکن سنت موجود ہے اور حدیثیں بھی موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کا جنازہ پڑھنا جائز ہے۔اس کے بعد جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔چاروں امام جو اس وقت گویا روئے زمین کے تمام مسلمانوں کے اعتقادات پر چھائے ہوئے ہیں۔یعنی امام ابو حنیفہ، امام شافعی ، امام مالک اور امام احمد بن حنبل سب ہمارے ساتھ متفق ہیں ان سب کا وہی مذہب ہے جس پر ہم نے عمل کیا بلکہ میں نے تو احوط سے احوط مذہب پر عمل کیا۔اب رہا یہ سوال کہ اگر فعل کو بُرا سمجھا جاتا تھا تو اس قدر لوگ کیوں جنازہ میں شامل ہوئے۔کیا ہر جنازے میں اتنے ہی لوگ ہوتے ہیں اور اگر نہیں تو اس جنازہ میں اتنے آدمی کیوں شامل ہوئے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ حکم کے نتیجہ میں ہوا ہے۔اس بارہ میں میں پہلے حکم کے متعلق جواب دیتا ہوں۔(۱) میرا پہلا جواب یہ ہے کہ میں نے کسی کو جنازہ کے لئے نہیں کہا ، نہ کسی کو یہ کہا کہ وہ دوسروں کو جنازہ کے لئے کہے بلکہ میرے لئے حیرت کی بات تھی۔جب میں نے سنا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ جنازہ میں شامل ہوئے۔پس جب ایسا کوئی حکم دیا ہی نہیں گیا تو لوگوں کی کی کثرت کو دیکھ کر خود بخود یہ نتیجہ نکال لینا کہ ضرور حکم دیا گیا ہوگا یہ کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔یہ تو قیاسی بات ہے اور قیاس غلط بھی ہوا کرتے ہیں۔جیسے تمہید میں میں نے تمہیں بتایا تھائی کہ جب ہندوؤں نے دیکھا کہ دنیا میں کوئی امیر ہے، کوئی غریب ہے، کوئی تندرست ہے، کوئی بیمار، کوئی معزز ہے اور کوئی ذلیل ، تو یہ قیاس کر لیا کہ یہ تناسخ کا نتیجہ ہے۔یا عیسائیوں نے