خطبات محمود (جلد 19) — Page 435
خطبات محمود ۴۳۵ سال ۱۹۳۸ء کہا تھا ”خوہ محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا ان معترضین کا اصل اعتراض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات پر پڑتا ہے۔کہتے ہیں کوئی پٹھان تھا۔ایک دفعہ جب وہ حدیث کا سبق پڑھ رہا تھا۔تو وہاں یہ ذکر آ گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک بچہ کو اٹھا کر نماز پڑھنی شروع کر دی۔جب آپ سجدہ میں جاتے تو اسے اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اُسے اُٹھا لیتے ، وہ پڑھتے ہی کہنے لگا ”خوہ محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔اس نالائق نے یہ نہ سمجھا کہ نماز تو خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی ہے۔اگر نماز کے قواعد وہ نہیں جانتے تو اور کون جان سکتا ہے۔کسی نے اسے کہا یہ کیا بے ہودہ بات کرتے ہو۔تو اس نے جواب دیا کہ میں ٹھیک کہتا ہوں کنز میں لکھا ہے کہ خارجی حرکت سے نماز ٹوٹ جاتا ہے۔اسی طرح یہ لوگ بھی مسئلہ اپنے پاس سے بناتے اور پھر اسے منسوب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دیتے ہیں۔حالانکہ یہ بات احادیث سے ، فقہاء کے اقوال سے اور ائمہ اربعہ کے فتاویٰ سے ثابت ہے۔آخر یہ جو اعتراض کرتے ہیں۔یہ یا تو اہلحدیث ہونگے یا حنفی ہو نگے یا شافعی ہونگے یا مالکی ہونگے یا حنبلی ہو نگے اور اگر یہ اہلحدیث ہیں تو حدیثیں موجود ہیں ،حنفی ہیں تو حنفیوں میں بحث پائی جاتی ہے، شافعی ہیں تو شافعیوں میں بھی یہ مسئلہ پایا جاتا ہے اور اگر مالکی یا حنبلی ہیں تو ان میں بھی یہ مسئلہ پایا جاتا ہے۔غرض کوئی ایک بھی محدث ، یا فقیہہ ، یا امام ایسا نہیں جو کہتا ہو کہ اس قسم کے گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے مجرم کو جنازہ سے محروم کر دینا اہئے۔چنانچہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں تمام ائمہ خواہ حنفی ہوں ، خواہ شافعی ، خواہ حنبلی ، خواہ مالکی اس امر کا فتویٰ دیتے ہیں کہ اہلِ کبائر کا جنازہ جائز ہے۔صرف امام مالک ان سے اختلاف کرتے ہیں مگر وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ جنازہ جائز نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ امام کو ان اہلِ حدود کا کی جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے جن کو اس نے خود حد لگوائی ہو۔یعنی امام کسی کے متعلق یہ فتویٰ دے چکا کی ہو کہ فلاں شخص حد کے نیچے آ گیا ہے۔اس فتویٰ کے بعد اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ خود اس کا کی جنازہ پڑھے۔مثلا کسی پر زنا کا الزام ثابت ہو چکا ہے یا قتل کا الزام ثابت ہو چکا ہے یا چوری کا الزام ثابت ہو چکا ہے اور وہ حکم دے چکا ہے کہ اس پر زنا، یا قتل ، یا چوری کی حد قائم کر دی جائے