خطبات محمود (جلد 19) — Page 411
خطبات محمود ۴۱۱ سال ۱۹۳۸ غیر متعلق باتیں ہیں جنہیں قانون کوئی وقعت نہیں دیتا۔اگر حکومت کا یہ قول درست ہے تو وہ بتائے کہ اس نے مسٹر کھوسلہ کو کیا سزا دی تھی۔کیا مسٹر کھوسلہ نے ہماری جماعت کے خلاف ریمارکس نہیں کئے تھے؟ اگر کئے تھے تو اس قسم کے مجسٹر بیٹوں کو روکنے کا کوئی ذریعہ بھی تو ہونا چاہئے اور اگر کوئی ذریعہ نہیں ہوگا تو وہ ایسے ریمارک کرتے جائیں گے اور جماعت حق دفاع سے محروم رہے گی۔چنانچہ مسٹر کھوسلہ نے ہی ہماری جماعت کے خلاف سخت ریمارکس کئے اور جب اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی تو تھی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ بعض جگہ مسٹر کھوسلہ مسل سے بالکل باہر چلے گئے ہیں اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ فاضل جج نے اس وقت کہا یا شاید فیصلہ میں لکھا کہ اسے پڑھ کر یوں معلوم ہوتا کہ ہے کہ مقدمہ مولوی عطاء اللہ صاحب کے خلاف نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کے خلاف ہو رہا تھا۔مگر باوجود اس کے گورنمنٹ نے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی کچ قانون ایسا موجود نہیں جو مجسٹریٹوں کو ایسی غیر متعلق باتوں سے روکتا ہو اور یہ صرف مسٹر کھوسلہ پر ہی منحصر نہیں اور بھی کئی مجسٹریٹوں نے پچھلے چند سالوں میں یہ غلطیاں کی ہیں اور قادیان کے احمدیوں کے متعلق نا واجب ریمارکس کئے ہیں۔ان حالات میں لازماً اس قوم کو غصہ آئے گا جس کے خلاف مسلوں میں مصالحہ جمع کیا جاتا ہے مگر اسے دفاع کا موقع نہیں دیا جاتا اور وہ یا تو کسی فریق سے مل کر اپنے حق کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گی یا پھر حکومت کے خلاف اس کے دل میں نفرت کا جذبہ پیدا ہوگا۔یعنی یا تو اس کا غصہ اس طرح فرو ہو سکتا ہے کہ اسے دفاع کرنے کا موقع مل جائے جس کا طریق سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ وہ کسی ایک فریق سے مل جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر اس کے دل میں حکومت کے خلاف غصہ کے جذبات پیدا ہونگے کہ اس نے عدالتیں تو بنا ئیں مگر وہ ایک تیسرے فریق پر جس کا مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔نہ وہ مدعی ہوتا ہے نہ مدعا علیہ ہوتا ہے بلا وجہ حملے شروع کر دیتی ہے اور وہ قانون کو نہیں بدلتی۔پس چاہئے کہ حکومت قانون کے ذریعہ سے جلد اس نقص کا ازالہ کرے۔تا مختلف مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذاہب کی حفاظت کے لئے خواہ مخواہ مجرم کے ساتھ تعاون نہ کرنا پڑے اور فردی جُرم قومی کشمکشوں کا ذریعہ نہ بن جایا کرے۔اگر وہ ایسا کر دے تو بین الا قوامی جھگڑو