خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 412

خطبات محمود ۴۱۲ سال ۱۹۳۸ کی بہت سی سختی دور ہو جائے گی۔غرض یہ صورتِ حالات قانون کے نقص سے پیدا ہوتی ہے یا پھر بے تعلق فریق کو بلا وجہ ملزم گرداننے کی کوشش سے پیدا ہوتی ہے۔پس یا تو گورنمنٹ پر الزام آتا ہے۔یا مخالف فریق پر الزام آتا ہے جو بلا وجہ ایک تیسرے فریق کو درمیان میں گھسیٹ لاتا ہے۔پس ان حالات میں ہم سمجھتے ہیں کہ گورنمنٹ کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ ہم سے یہ مطالبہ کرتی اور اگر اس نے یہ مطالبہ ہم سے کیا تھا تو پھر اس کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ ایسے امور کو بیچ میں نہ کی آنے دیتی جس سے جماعت پر حرف آتا ہو اور صرف انہی باتوں کے بیان کرنے کی اجازت کی دیتی جن کا اثر صرف ملزم تک رہتا لیکن اس نے اپنا یہ فرض ادا نہیں کیا بلکہ خود پراسیکیوشن کے بعض افسروں کی طرف سے فریق مخالف کے اثر کے ماتحت بعض ایسے امور زیر بحث لائے گئے جو اگر نہ آتے تو انصاف کے زیادہ مطابق ہوتا چنانچہ یہ سوال اٹھایا گیا کہ اس قتل کی تہہ میں سازش معلوم ہوتی ہے۔گوسیشن جج صاحب نے اسے رد کر دیا۔پس اس موقع پر جو غلطی ہوئی وہ حکومت کی طرف سے ہوئی ہم سے نہیں ہوئی۔ہم نے اس کے مطالبہ کو امن میں مُمد سمجھتے ہوئے مان لیا مگر اس نے فرض شناسی سے کام نہیں لیا اور اپنے ماتحت افسروں کو اس نے یہ ہدایت نہیں دی کہ ہم نے اس فریق سے چونکہ وعدہ لے لیا ہے کہ وہ بحیثیت جماعت ملزم کی مدد نہیں کرے گا اس لئے اب تمہیں خیال رکھنا چاہئے کہ ملزم کے علاوہ اس کی جماعت کا ذکر مخالفانہ طور پر درمیان میں نہ آئے۔پس ہم نے جو وعدہ کیا تھا اسے کامل طور پر پورا کر دیا۔ہاں ہمارا قصور یہ ضرور ہے کہ ہم نے حکومت کو وعدہ دیتے ہوئے خود اس سے بھی وعدہ نہ لے لیا کہ سازش کا سوال درمیان کی میں نہیں آئے گاور نہ ہمیں ملزم کے ساتھ ملنے کی آزادی ہوگی۔یہ ہماری ناتجربہ کاری تھی کہ ہم نے اپنے وعدہ کے مقابلہ میں ایک وعدہ اس سے نہ لے لیا کیونکہ ایسا پہلے ہمارے ساتھ کبھی نہیں ہو ا تھا۔اگر ہمیں پہلے معلوم ہوتا کہ سازش کا سوال درمیان میں اٹھا دیا جائے گا تو اسی وقت ہم کہہ دیتے کہ اگر دوسرے فریق کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ یہ قتل سازش کے نتیجہ میں ہوا ہے تو پھر ہمارا حق ہوگا کہ ہم ملزم کے ساتھ مل جائیں کیونکہ اپنی براء ت پیش کرنے کا