خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 410

خطبات محمود ۴۱۰ سال ۱۹۳۸ء حملہ ہی نہیں ہوا۔اور اگر وہ بولتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ تمہیں اس مقدمہ میں بولنے کا کوئی حق کی نہیں تم کوئی فریق مقدمہ نہیں کہ اس میں حصہ لے سکو۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب وہ فریق مقدمہ نہیں تو مقدمہ میں اس کا ذکر کیوں کرتے ہو۔پس اگر کسی مجرم کی مدد کر نائجرم ہے تو اس کا الزام قانون کے نقص پر آتا ہے نہ کہ اس قوم پر کیونکہ موجودہ قانون اس قوم کو اس بات پر مجبور کر دیتا ہے کہ وہ کی مجرم سے مل جائے کیونکہ بغیر اس کے وہ اپنا دفاع پیش کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتی۔مگر یہ میں نے عام قانون بتایا ہے کہ ہندوستان میں ایسا ہوتا ہے ورنہ ہماری طرف سے ایسا نہیں ہوا۔ہم نے غلطی سے ابتداء میں جب یہ اقرار کیا ہے اُس وقت ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ بعد میں ہمارے ساتھ مخالف پارٹی کے لوگ ایسی شرارت کریں گے کیونکہ ابھی جماعت احمدیہ سے ان کا تعلق قریب ہی میں ٹوٹا تھا اور ہم یہ خیال نہیں کر سکتے تھے کہ وہ ایسا جھوٹ بولیں گے اور پراسیکیوشن کو ایسے راستہ پر چلا ئیں گے کہ وہ کہیں گے کہ یہ قتل کسی سازش کا نتیجہ ہے۔بعد میں جب ہمیں حالات کے اس طرح بدل جانے کا علم ہو گیا اور معلوم ہو گیا کہ اس مطالبہ کا پورا کرنا ہمارے لئے نقصان دہ ہے تب بھی ہم نے اپنے وعدہ کو کامل طور پر پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔پس اس موقع پر جو بد دیانتی ہوئی ہماری طرف سے نہیں ہوئی بلکہ حکومت کے بعض لوکل نمائندوں نے فرض شناسی سے کام نہیں لیا۔حکومت کی طرف سے کہا جاسکتا ہے کہ ایسی غیر متعلق باتوں کو قانون کوئی وقعت نہیں دیتا لیکن یہ درست نہیں آخر مسٹر کھوسلہ نے اور کئی مجسٹریٹوں نے پچھلے چند ہی سالوں میں یہ غلطیاں کی ہیں یا نہیں۔جب ایسی غلطیاں ہوئی ہیں تو لازماً اس قوم کو غصہ آئے گا جس کے اخلاق کو زیر بحث تو لایا جاتا ہے مگر اسے دفاع کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ حکومت ایک طرف تو ایک ایسی جماعت کا جو فریق مقدمہ نہیں اپنے مقدمات میں بار بار ذکر کرتی ہے، اس کے اخلاق کو زیر بحث لاتی ہے۔اور اس کے خلاف معاندانہ ریمارکس مسلوں میں درج کرتی ہے اور پھر کہتی ہے کہ اس کی پرواہ نہ کرو۔آخر جو چیز ریکارڈ پر آجائے گی ، اس کی پرواہ کیوں نہ کی جائے گی۔وہ شائع بھی ہو سکتی ہے، اس سے استدلال بھی کیا جا سکتا ہے، اسے مخالفانہ رنگ میں پیش بھی کیا جاسکتا ہے پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ بھی درست نہیں کہ یہ