خطبات محمود (جلد 19) — Page 394
خطبات محمود ۳۹۴ سال ۱۹۳۸ء حماقت کی بات ہے۔ماں باپ پر حملہ کے وقت انسان کے اندر اور قسم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور محلہ کے کسی آدمی پر حملہ کی صورت میں اور قسم کے۔پھر الزام کی حقیقت بھی دیکھی جاتی ہے۔عزیز احمد صاحب پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے ایک شخص پر حملہ کیا اور وہ اس کو تسلیم کرتے تھے لیکن جو الزام مجھ پر سمجھا گیا تھا اسے نہ میں تسلیم کرتا ہوں اور نہ جماعت۔چنانچہ ہائی کورٹ کے پہلے فیصلہ کے وقت یہ خیال کیا گیا تھا کہ ہائی کورٹ نے یہ کہا ہے کہ میں نے قتل کی تحریک کی۔نہ میں اسے تسلیم کرتا تھا کہ میں نے ایسی تحریک کی تھی اور نہ جماعت اس کو صحیح سمجھتی تھی۔پس جہاں الزام غلط سمجھا جائے وہاں یقینا زیادہ جوش پیدا ہوتا ہے۔میں نے کہا ہے کہ جو الزام مجھ پر سمجھا گیا تھا۔یہ الفاظ میں نے اس لئے استعمال کئے ہیں کہ ہائی کورٹ نے بعد میں فیصلہ کیا کہ جو معنے جوں کے فیصلہ کے کئے گئے ، وہ غلط تھے اور وہ ان کے خیال میں بھی کبھی نہ تھے۔میرے کان میں مصری پارٹی کی یہ آواز بھی پہنچی ہے کہ ہم پر ناراضگی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہم ہائی کورٹ کی فیصلہ کے یہ معنی کیوں کرتے ہیں کہ امام جماعت احمدیہ نے اپنے خطبوں میں قتل کی تحریک کی یا انگیخت کی۔حالانکہ خود ہی اس پر پہلے شور کیا تھا اور اشتہار شائع کیا تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ سے قبل لوگوں نے وہ معنے سمجھے تھے اور اس وجہ سے ہمیں تکلیف ہوئی اور ہم نے ان معنوں کو مد نظر رکھ کر اظہار رنج کیا اور اس وقت تک ہم کسی پر ان معنوں کی وجہ سے بددیانتی کا الزام نہیں لگاتے تھے لیکن ہائی کورٹ کے دوسرے فیصلہ کے کی بعد بھی جو وہ معنے لیتا ہے ہم مجبور ہیں کہ اسے بددیانت کہیں۔پہلے مصری پارٹی اور احراری دونوں غلط معنے کرتے تھے مگر ہم نے کسی کو بددیانت نہیں کہا حالانکہ حقیقتا جوں کے نزدیک وہ بات نہ تھی جو یہ لوگ پیش کرتے تھے کشتی کہ ایک جج نے دوسرے مقدمہ کی سماعت کے دوران میں کہا کہ جب ہمارا یہ مطلب ہی نہیں تو اگر کوئی بے وقوف یہ معنے لیتا ہے تو ہمیں کیا لیکن پھر انہوں نے فیصلہ بھی لکھ دیا کہ ان کا یہ مطلب نہیں تھا۔اور اگر اب کوئی پہلے فیصلے کے وہ معنے کرتا ہے جو دوسرے فیصلے سے قبل کئے جاتے تھے تو وہ یقیناً بد دیانتی کرتا ہے اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانا شرک ہے بھی لیکن پہلے براہین احمدیہ میں خود یہ عقیدہ بیان کر چکے ہیں۔اب اگر