خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 395

خطبات محمود ۳۹۵ سال ۱۹۳۸ کوئی شخص کہے کہ پھر آپ بھی شرک کے مرتکب ہوئے ہیں تو ہمارا یہی جواب ہوگا کہ ہرگز نہیں۔آپ نے اُس وقت یہ خیال ظاہر کیا تھا جب قرآن کریم اور الہام الہی سے وضاحت نہیں ہوئی تھی۔شرک کے مرتکب وہ ہیں جو اس وضاحت کے بعد ایسا کرتے ہیں۔غرض جس طرح براہین احمدیہ میں حیات مسیح کا عقیدہ لکھنے کی وجہ سے نہ غیر احمدی بری ہوتے ہیں نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتراض پڑتا ہے۔اسی طرح پہلے فیصلہ کے وقت میں ہمارا رنج کرنا دوسرے فیصلہ کے بعد بھی الزام لگانے والوں کو نہ بری کرتا ہے اور نہ اس سے ہم پر کوئی الزام آتا ہے۔بعض لوگ ہمارے مخالفوں میں سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ لوگ یونہی جھوٹی خوشی کر رہے ہیں۔ہائی کورٹ نے تو ان کی اپیل مسترد کر دی ہے اس لئے ہم جو کہتے ہیں وہی درست ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ درست ہے تو اس فیصلہ کو جو فخر الدین صاحب کے لڑکے نے شائع کی کیا حکومت نے ضبط کیوں کر لیا حالانکہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو کوئی ضبط نہیں کر سکتا۔یہ حق حکومت کی کو اسی وجہ سے حاصل ہوا کہ اسے غلط معنوں میں پیش کیا جاتا تھا پس ضبطی نے بتا دیا کہ جو معنے اس کے پہلے سمجھے گئے تھے وہ صحیح نہ تھے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو حکومت اسے ہرگز ضبط نہ کر سکتی تھی کیونکہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو اسی صوبہ کی حکومت ضبط نہیں کر سکتی لیکن اب تو باقی حکومتیں بھی کی اسے ضبط کر رہی ہیں۔چنانچہ کشمیر گورنمنٹ نے بھی اسے ضبط کر لیا ہے۔اس پر ایک مسلمان اخبار نے لطیفہ کے رنگ میں لکھا ہے کہ حکومت کشمیر اتنی پاگل ہے کہ اسے اتنا بھی علم نہیں کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو ضبط نہیں کر سکتی۔اس اخبار کو علم نہیں کہ کشمیر گورنمنٹ پنجاب ہائی کورٹ کے ماتحت نہیں۔وہ تو اگر چاہے تو اپنے علاقہ میں اصل فیصلہ کو بھی ضبط کر سکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو کتاب ضبط کی گئی ہے وہ ہائی کورٹ کا فیصلہ نہیں۔بلکہ وہ کتاب ہے جس کا نام ہائی کورٹ کاج فیصلہ رکھ کر اس کے اندر ہائی کورٹ کے فیصلہ کی غلط تشریح کر دی گئی ہے۔غرض جب تک دوسرا فیصلہ نہیں ہوا اُس وقت تک ہم خود غلط فہمی میں تھے مگر دوسرے فیصلے نے حقیقت کھول دی اور اب جو بھی یہ کہتا ہے کہ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ امام جماعت احمد یہ نے میاں فخر الدین کے قتل کی انگیخت کی تھی وہ جھوٹ بولتا ہے اور اگر وہ دیانتدار ہے تو