خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 387

خطبات محمود ۳۸۷ سال ۱۹۳۸ء ما تحت بھی کیفیتیں بدلتی رہتی ہیں مثلاً چوری ہے۔چوری کا لفظ ہر چوری کی نسبت بولا جائے گا مگر اس لفظ کا اطلاق اتنے کاموں کے لئے کیا جاتا ہے کہ بعض بعض سے بہت ہی مختلف ہوتے ہیں۔چونکہ چوری کا ہمارے ملک میں عام رواج ہے۔میں اسی کی وضاحت کر دیتا ہوں کیونکہ دوستوں کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ہمارے زیادہ تر دوست زمیندار ہیں اور انہی ہی کے ذہن نشین کی کرانے کی زیادہ ضرورت ہے۔وہ اس مثال سے میرے مطلب کو اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔بوجہ اس کے کہ ان کے ارد گرد کثرت سے یہ فعل کیا جاتا ہے۔چوری کے معنی یہ ہیں کہ کسی کی ربچا کر اس کی چیز کو لے لینا مگر اس کی آگے کئی اقسام ہیں۔جانورں کی چوری ، روپیہ کی چوری کھیتی کی چوری ، جوتیوں کی چوری، رومالوں وغیرہ کی چوری۔مگر رومالوں اور جوتیوں وغیرہ کی چوری تو تعلیم یافتہ لوگوں کی چوری ہے۔زمیندار تو شاید اسے سمجھ بھی نہ سکیں۔لیکن پہلی تین قسموں کی چوریوں کو وہ خوب سمجھتے ہیں کوئی شخص رو پیدا اور مال کا چور ہوتا ہے کوئی کھیتی کا کوئی جانوروں کا ، پھر آگے چوری کرنے کے کئی طریقے ہیں۔اُچک کر لے جانا ، بھگا کر لے جانا ، باہر سے کسی کا مال اٹھا کر لے جانا ، سیندھ لگانا ، اب میں چوری کی جنس کے لحاظ سے تقسیم بتا تا ہوں۔اور ہمارے دوست سمجھ جائیں گے۔ایک ہی لفظ میں بیسیوں معنے ہوتے ہیں۔ایک شخص جو جانوروں کی چوری کرتا ہے۔وہ بالعموم سیندھ لگا کر چوری نہیں کرے گا، خواہ کچھ بھی ہو جائے۔وہ اسے اپنے لئے ذلت قرار دے گا اور کہے گا کہ چوہڑوں کے ساتھ مل کر سیندھ لگانا بڑی ذلت کا کام ہے۔اضلاع گوجرانوالہ ، شیخو پورہ اور گجرات میں جانوروں کی چوری بہت ہے۔حتی کہ ان اضلاع میں اس چیز کو عیب نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہاں تک کہ کچھ عرصہ ہوا گوجرانوالہ کے ایک ڈپٹی کمشنر نے اپنے ایک فیصلہ میں لکھا تھا۔چوری کے الزام میں میں ملزم کو سزا تو دیتا ہوں۔کیونکہ قانون کا منشاء یہی ہے۔لیکن میں اسے چوری نہیں سمجھتا کیونکہ یہ چیز تو ان لوگوں کے لئے معمولی بات ہے اور ایک دوسرے سے انتقام لینے کا ذریعہ ہے۔حق یہ ہے کہ اس چوری کا بعض قبائل میں تو اس قدر رواج ہے کہ لڑکے کو پگڑی نہیں باندھی جاتی جب تک وہ گائے یا بھینس چرا کر اپنی بہن کو نہ لا دے۔یہ بات ہمارے نانا جان صاحب مرحوم و مغفور۔کسی نے کہہ دی اور یہ ان کے دل میں میسیج کی طرح گڑ گئی کہ ان اضلاع کے سب لوگ چور