خطبات محمود (جلد 19) — Page 388
خطبات محمود ۳۸۸ سال ۱۹۳۸ء ہوتے ہیں۔چنانچہ وہ ایک دن مسجد میں فرمانے لگے کہ ضلع گجرات کے سب لوگ چور ہوتے ہیں۔میرا طریق یہی ہے اور یہی درست ہے۔نہ کوئی قوم ساری کی ساری بُری ہوتی ہے اور نہ اچھی۔اس لئے میں نے ان کی تردید کی اور کہا کہ سارے تو چور نہیں ہوتے۔ہاں میں یہ مان لیتا ہوں کہ بعض قوموں میں چوری کی عادت بہت زیادہ ہوگی مگر ان کے دل میں یہ خیال اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ کہنے لگے کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کوئی شخص ضلع گجرات کا ہو اور پھر چور نہ ہو۔میں نے خیال کیا کہ اس مجلس میں اس ضلع کے بھی کوئی دوست بیٹھے ہوں گے اور ان کو اس بات سے تکلیف ہوگی اس لئے زیادہ زور کے ساتھ ان کے اس خیال کی تردید کی مگر انہوں نے اور زیادہ وثوق کے ساتھ اپنی بات پر اصرار کیا۔آخر میں نے سمجھا کہ اس بات کے ازالہ کا طریق یہی ہے کہ کہ میں جماعت کے کسی بڑے اور معزز آدمی کا نام لوں اس کا نام سن کر یہ خاموش ہو جائیں گے اور میں نے سوچ کر حافظ روشن علی صاحب مرحوم کا نام لیا کہ وہ بھی گجرات کے ہیں۔مجھے معلوم تھا کہ میر صاحب مرحوم حافظ صاحب کے علم اور تقوی کے قائل تھے۔میر صاحب مرحوم نے جب ان کا نام سنا تو تھوڑی دیر خاموش رہے اور میں نے سمجھا کہ میری تدبیر کارگر ہوگئی مگر وہ ذرا سی دیر خاموش رہنے کے بعد پھر بولے اور کہا کہ حافظ صاحب گجرات کے ہیں ؟ میں نے کہا ہاں کی تو وہ فرمانے لگے تو پھر وہ بھی ضرور چور ہوں گے۔میں نے آخر کہا کہ آپ اس امر پر اس قدر زور کیوں دے رہے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ اس ضلع میں یہ رسم ہے۔کہ جب تک کوئی کی جانور چرا کر اپنی بہن کو نہ دے اُس کے سر پر پگڑی نہیں رکھی جاتی۔ان کا جواب سن کر مجھے خیال ہوا کہ حافظ صاحب کا نام سننے پر جو وہ تھوڑی دیر کے لئے خاموش رہے تھے۔تو شاید یہ یاد کر نے کے لئے خاموش ہوئے تھے کہ حافظ صاحب پگڑی باندھتے ہیں۔یا نہیں۔اب یہ بات جس نے میر صاحب کو بتائی کہ ہر گجرات کے آدمی کو اک دفعہ ضرور گائے یا بھینس چرانی پڑتی ہے۔ہے تو غلط لیکن یہ مثال اس حقیقت کا ایک مبالغہ آمیز نقشہ ضرور ہے۔جو گجرات ، گوجرانوالہ ، شیخو پورہ کے اضلاع کے بعض قبائل میں بدقسمتی سے پائی جاتی ہے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی اضلاع میں یہ مرض وسیع ہے کہ جانوروں کی چوری کو کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا۔بلکہ جو زیادہ نامی چور ہو اتنا ہی معزز سمجھا جاتا ہے۔ایک الیکشن کے موقع پر ان اضلاع میں سے ایک ضلع میں ہے