خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 372

خطبات محمود ۳۷۲ سال ۱۹۳۸ء وہ ایک دفعہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص پاس سے گزرا اور کہنے لگا۔میں قربان کی جاؤں ان آنکھوں کے جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔میں قربان جاؤں ان ہاتھوں کے جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔کاش! ہم بھی اُس زمانہ کو دیکھتے۔مقداد یہ سن کر غصہ میں آگئے اور ان کا چہرہ کا رنگ سرخ ہو گیا۔راوی کہتے ہیں۔ہم نے دل میں کہا آپ کا یہ غصہ اس وقت کیسا نا واجب ہے مگر اتنے میں مقداد بولے تم کیا بات کرتے ہو۔تمہارے جیسے ہی انسان تھے جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رڈ کیا۔انہوں نے آپ کی باتیں سنیں مگر کہا تو جھوٹا ہے ، مکار ہے۔پس تم میں سے کون کہہ سکتا ہے کہ اگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ہوتا تو ضرور آپ پر ایمان لاتا اور ابو جہل یا ابولہب کے چیلوں میں شامل نہ ہوتا۔پس تم کیوں کہتے ہو کہ کاش ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوتے۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ اگر اُس وقت تم پیدا ہوتے تو تمہارا کیا حال ہوتا۔تم شکر کرو کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں ایسے وقت میں پیدا کیا ہے جب تمہارے ماں باپ ایماندار تھے اور اس طرح تمہیں اس امتحان میں سے گزرنا نہیں پڑا جس امتحان میں سے تمہارے ماں باپ کو گزرنا پڑا۔پھر وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے زمانہ کا کیا پوچھتے ہو۔ہمارے دل بھی تھے ، ہمارے بھی پیارے سے پیارے وجود تھے۔ہمارے بھی دنیا میں وہ لوگ تھے جو ہمارے حبیب اور محبوب تھے مگر جب خدا نے ہمیں ایمان دے دیا اور وہ دولت ایمان سے محروم رہے اور جنگیں ہوئیں تو ہم ان سے لڑائی کرتے تھے مگر بخدا جب ہم تلوار چلاتے تو تی ہمارے دل یہ تصور کر کے خون ہو جاتے کہ قیامت کے دن ہمارے یہ حبیب دوزخ کی طرف لے جائے جار ہے ہوں گے اور ہم جنت کی طرف جا رہے ہوں گے۔یہ وہ نمونہ ہے جو صحابہؓ نے کی دکھایا اور یہی وہ نمونہ ہے جو قضاء کے وقت ایک شریف اور ہمدر دانسان دکھا سکتا ہے انہوں نے ایک طرف تلوار لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو کاٹ ڈالا مگر دوسری طرف ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے دل کڑھ رہے اور رو رہے تھے کہ ہمارا یہ پیارا جہنم کی طرف جا رہا ہے اور ہم جنت کی طرف۔تو جذباتی قضاء کا معاملہ نہایت پیچدار ہوتا ہے جس کو صرف عالم اور فہیم آدمی ہی سمجھ سکتے ہیں۔صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سوچنے والا دماغ اور فکر کرنے والی روح عطا فرمائی ہے۔عام لوگ نہ ان باتوں کو سمجھتے ہیں اور نہ وہ ان کو سمجھنے کے